حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 94
حیات احمد ۹۴ جلد چهارم لا ہور ۱۸ را پریل ۱۸۹۳ء غلام احمد کادیانی تمہارے چند اوراق کتاب وساوس کے بدست عزیزم مرزا خدا بخش اور دو رجسٹرڈ خط وصول ہوئے۔(1) میں تمہاری اس کتاب کا جواب لکھنے میں مصروف تھا۔اس لئے تمہارے خطوط کے جواب میں توقف ہوا۔اب اس سے فارغ ہوا ہوں تو جواب لکھتا ہوں۔(۲) میں تمہاری ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں۔مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔بالمقابلہ عربی عبارت میں تفسیر قرآن لکھنے کو بھی تیار ہوں۔میری نسبت جو تم کو منذر الہام ہوا ہے اس کی اشاعت کی اجازت دینے کو بھی مستعد ہوں مگر ہر ایک بات کا جواب و اجابت رسالہ میں چھاپ کر مشتہر کرنا چاہتا ہوں جو انہیں باقی ماندہ ایام اپریل میں ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ (۳) تمہارا سابق تحریرات میں یہ قید لگانا کہ دو ہفتہ میں جواب آوے اور آخری خط بقیہ حاشیہ۔دوسری کتاب میں نہ پائے جائیں اور با ایں ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ اُن کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے والے ہوئی۔کتاب کے آخر میں سو شعر لطیف بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصیدہ درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہیں وہ بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کے لئے چالیس دن کی مہلت دی جائے اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جو عربی میں ہوں گے سناویں۔پھر اگر یہ عاجز شیخ محمد حسین سے حقائق و معارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصر اور کم درجہ پر رہایا یہ کہ شیخ محمد حسین اس عاجز سے برابر رہا تو اسی وقت یہ عاجز اپنی خطا کا حاشیہ در حاشیہ۔اگر کسی کے دل میں یہ خدشہ گزرے کہ ایسے جدید حقایق و معارف جو پہلی تفاسیر میں نہ ہوں وہ کیونکر تسلیم کئے جاسکتے ہیں اور وہ انہیں پہلی ہی تفاسیر میں محدود کرے تو اُسے مناسب ہے کہ عبارت ذیل کو ملاحظہ کرے۔ثم رأيت كل اية و كل حديثٍ بَحْرًا مَوَّاجًا فيه من اسرار ما لو كتبت شرح سرّ واحد منها في مجلدات لما احاطته ورأيت الاسرار الخفية مبتذلة في اشارات القرآن والسنة فقضيت العجب كل العجب ( فُيُوْضُ الْحَرْمَيْنِ۔صفحه ۴۲ )