حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 309 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 309

حیات احمد جلد چهارم ان کی تمام جماعت جو مولوی اور فاضل کہلاتی ہے جواب نہ دے سکیں اور عاجز آجائیں تو نہ ہم ان سے کچھ مانگتے ہیں۔نہ گالیاں نکالتے ہیں نہ دکھ دیتے ہیں صرف اپنی مہربان گورنمنٹ کی خدمت میں فریاد کرتے ہیں اور ملتمس ہیں کہ آئندہ مولوی کے نام سے ان نادان دشمنوں کو روک دیا جائے۔اور قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کی نکتہ چینی سے سخت ممانعت فرمائی جاوے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۷۲ تا ۸۰ - مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۳۶۶ تا ۳۷۱ طبع بار دوم ) تصانیف کا نیا سلسلہ اسی سال ۱۸۹۴ء میں عربی تصانیف کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔اور اس سلسلہ کی ہر کتاب متحد یا نہ رنگ میں لکھی گئی اور منکرین و مکذبین کو چیلنج دیا گیا کہ اس کا جواب لکھیں اور بعض کے ساتھ بیش قرار انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔جیسا کہ نور الحق کے جواب کے لئے پانچ ہزار کا بیش قرار انعام مقرر کیا گیا۔اور مقابلہ میں نہ آنے پر پانچ ہزار لعنت بھی مقرر کی گئی۔عمادالدین اور اس کے رفقاء و معاونین کو جرات نہ ہوئی کہ مقابلہ کرتے۔یہ تصانیف صرف ادبی پہلو ہی سے لا جواب نہ تھیں بلکہ ان میں قرآن مجید کے حقائق و معارف تھے اور ان معترضین کا جواب تھا۔جنہوں نے اسلام یا قرآن کریم پر اعتراض کیا تھا۔اور بعض تبلیغی نوعیت کی تھیں۔جن میں اپنے دعوئی اور اس بقیہ حاشیہ۔تدبیریں ہیں اس سے زیادہ ہم کیا کریں کہ جواب بالمقابل فصیح لکھنے پر پانچ ہزار روپیہ نقد انعام دیتے ہیں اور عمدا پہلو تہی کرنے کی حالت میں ہزار لعنت ہے مگر اس صورت میں کہ جب مولوی کہلانے اور قرآن کریم پر حملہ کرنے سے باز نہ آویں۔یہ بھی یادر ہے کہ چار دفعہ مجھے منجانب اللہ رویا اور الہام کے ذریعہ سے بشارت مل چکی ہے کہ عیسائی ہرگز اس رسالہ کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے اور ذلت کے ساتھ خاموش رہ جائیں گے پس اگر اور نہیں تو اس پیشگوئی کو ہی جھوٹی کر کے دکھلاویں اگر انہوں نے بالمقابل رسالہ لکھ مارا اور وہ رسالہ فصاحت میں ہمارے رسالہ کا ہم پلہ ثابت ہو گیا تو بلا شبہ کا ذب ٹھہروں گا۔پس چاہیے کہ ہمت نہ ہاریں بلکہ اپنے اس مسیح سے مدد طلب کریں جس کو ہم محض عاجز انسان جانتے ہیں۔اور اس سے وہ روح القدس روروکر