حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 310
حیات احمد ۳۱۰ جلد چهارم کے دلائل کو پیش کیا گیا تھا۔ان میں بھی قرآن کریم کے معارف اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محامد اور آپ کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہے۔حمامة البشرى كى تصنيف اس سلسلہ میں پہلی کتاب حَمَامَةُ الْبُشْرَى إِلى اَهْلِ مَكَّةَ وَ صُلَحَاءِ أُمِّ الْقُرَى ہے جس طرح پر تحفه بغداد ایک بغدادی معاند کے جواب میں لکھا گیا تھا۔برخلاف اس کے حمامة البشری ایک مخلص مکی کے مکتوب کے جواب میں لکھا گیا تھا۔یہ شخص ۱۸۹۱ء میں ہندوستان آیا۔اور اس نے بقیہ حاشیہ۔مانگیں جو بولیاں سکھاتا ہے۔مگر ساتھ اس کے یقیناً یاد رکھیں کہ پیشگوئی سچی نکلے گی۔اور عیسائیوں کی مولویت کا ایسا پردہ فاش ہو جائے گا کہ بچے بھی ان پر نہیں گے۔اور ان کے خدا اور روح القدس کی کمزوری ایسی ثابت ہو جائے گی کہ سب خدائی اور مددنمائی سرد پڑ جائے گی اور صلیب ٹوٹ جائے گی۔بعض دوست یہ اندیشہ نہ کریں کہ ممکن ہے کہ شیخ محمد حسین بٹالوی جو عوام میں مولوی کر کے مشہور ہے۔اس وقت بھی ہمارے اس رسالہ کے شائع ہونے پر بالمقابل عربی رسالہ بنانے میں عیسائیوں کی ایسی ہی مدد کرے جیسا کہ اُس نے ۱۸۹۳ء میں ہمارے مباحثہ کے وقت پوشیدہ طور پر ان کی مدد کی تھی اور اپنے اشاعتہ السنہ کا فتویٰ بھیج دیا تھا۔اور ان کی تائید میں ایک اشتہار بھی چھپوایا تھا۔جو بعض مسلمانوں کے لعن طعن کے باعث شائع ہونے سے رُک گیا جس کی ایک کاپی ایک خاص ذریعہ سے ہم کو مل گئی جواب تک موجود ہے۔یہ وہی مخفی تحریرات تھیں جن کی وجہ سے پادری عمادالدین نے شیخ مذکور کو اپنی کتاب توزین الاقوال میں قابل تحسین لکھا ہے اور ہمارے نبی صلعم کو گالیں نکالیں اور شیخ کی تعریف کی ہے۔سو ایسا اندیشہ اس رسالہ کے نکلنے پر دل میں لانا بالکل بے بنیاد وہم اور خیال باطل ہے کیونکہ شیخ مذکور تو آپ ہی علم اور ادب اور علوم عربیہ سے تہی دست اور بے نصیب اور صرف ایک اردو نویس منشی ہے پھر پادریوں کی کیا مدد کرے گا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اگر اس وقت بھی بس چل سکے تو عیسائیوں کو مدد دینے میں کبھی فرق نہ کرے۔مگر اندھا اندھے کو کیا راہ دکھائے گا۔ہاں شاید اتنی مدد کرے بلکہ ضرور کرے گا کہ جل بھن کر اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ دے گا کہ یہ رسالہ کچھ نہیں کچھ نہیں۔غلط ہے غلط ہے۔مگر شریر اور نامنصف اور ظالم آدمی کی صرف زبان کی بے دلیل بکواس کو کون سنتا ہے۔اور ایسی بے ہودہ باتوں کا ہماری طرف سے دندان شکن یہی جواب ہے کہ اگر شیخ مذکور کی نظر میں یہ رسالہ بیچ اور غلط ہے اور وہ اپنے تئیں کچھ چیز