حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 78 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 78

حیات احمد ۷۸ کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے۔جلد سوم (روحانی خزائن جلد اصفحه ۶۷۳) یہ اعلانات اس امر کو ظاہر کرتے ہیں کہ آپ محض اللہ تعالیٰ کے حکم و منشاء کے ماتحت کام کر رہے تھے۔ان تجلیات الہیہ کو جو وقتاً فوقتاً ہو رہی تھیں ظاہر کرتے رہے اور براہین احمدیہ میں ایسے الہامات اور کشوف موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ مسیح موعود اور مثیل ابن مریم" ہیں لیکن آپ نے کبھی اس وقت تک ان الہامات اور کشوف کی بناء پر کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ عام مسلمانوں کی طرح یہی خیال کرتے تھے کہ مسیح ابن مریم کا نزول ہوگا۔اور یہی آپ کے اپنے دعوی میں صادق ہونے کی ایک دلیل ہے جس طرح لوگ آپ سے بیعت کرنے کے لئے بیتاب تھے مگر آپ نے ہمیشہ ایسی درخواستوں کو رڈ کر دیا اور صاف فرمایا کہ میں بیعت لینے کے لئے مامور نہیں ہوں لیکن جب آپ کو حکم ربانی پہنچا تو آپ نے اعلان کر دیا جیسا کہ پچھلی جلد میں آپ پڑھ آئے ہیں اسی طرح پر دعویٰ مسیحیت کے لئے باوجود الہامات اور کشوف کے جب تک آپ پر ظاہر نہیں کیا گیا کہ وہ موعود تو ہی ہے آپ نے جرات نہیں کی اور جب اللہ تعالیٰ نے اظہار و اعلان کا حکم دیا تو پھر آپ نے دنیا کی مخالفت کو بیچ سمجھا اور ایک اولو العزم مامور کی طرح میدان میں کھڑے ہو گئے۔بقیہ حاشیہ۔کے گورے و سپید منہ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں نورانی و منور ہوں۔فَتَسْئَلُ اللهَ تَعَالَى خَيْرَ هُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اللَّهُمَّ اهْدِهِمْ بِرُوْحٍ مِّنْكَ وَاجْعَلْ لَّهُمْ حَظًّا كَثِيرًا فِيْ دِيْنِكَ وَاجْذِبْهُمْ بِحَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ لِيُؤْمِنُوْا بِكِتَابِكَ وَرَسُوْلِكَ وَيَدْخُلُوْا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا - امِيْن ثُمَّ آمِيْنِ۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ مطبوعہ۔ریاض ہند پریس امرتسر المشتهر خاکسار۔مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ملک پنجاب ہیں ہزار اشتہار چھپا گئے تبلیغ رسالت جلد اصفحه ۱۴ تا ۱۶۔مجموعہ اشتہارات جلد ا صفحه ۲۷، ۲۸ مطبوعه بار دوم )