حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 392
حیات احمد ۳۹۲ جلد سوم دینی ملاقات کے لئے کسی اپنے مقتدا کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیں وہ اپنی گنجائش فرصت کے لحاظ سے ایک تاریخ مقرر کر سکتے ہیں۔جس تاریخ میں وہ بآسانی اور بلا حرج حاضر ہو سکیں۔اور یہی صورت ۲۷ / دسمبر کی تاریخ میں ملحوظ ہے کیونکہ وہ دن 66 تعطیلوں کے ہوتے ہیں اور ملازمت پیشہ لوگ بسہولت ان دنوں میں آ سکتے ہیں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۰۵ تا ۶۰۸ ) اور بالآ خر آپ نے مولوی رحیم بخش صاحب پر اتمام حجت کے لئے ان کو قادیان آنے کی اس طرح پر دعوت دی۔بالآخر میں یہ بھی ظاہر کرتا ہوں کہ اگر مولوی رحیم بخش صاحب اب بھی اس فتویٰ سے رجوع نہ کریں تو میں اُن کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر وہ طالب حق ہیں تو اس بات کے تصفیہ کے لئے میرے پاس قادیان میں آجائیں میں اُن کی آمد و رفت کا خرچ دے دوں گا اور ان پر کتابیں کھول کر اور قرآن اور حدیث دکھلا کر ثابت کر دوں گا کہ فتویٰ اُن کا سراسر باطل اور شیطانی اغوا سے ہے۔“ (۱۷/ دسمبر ۱۸۹۲ء) وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ( آئینہ کمالاتِ اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۱۲ ) مگر مولوی رحیم بخش صاحب کو حوصلہ نہ ہوا کہ وہ اس مقابلہ میں آتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ جلسه ۱۸۹۲ء نہایت شان سے ہوا۔اور پہلے جلسہ کی نسبت سے 4 گنا لوگ حاضر ہوئے جیسا کہ جلسہ کے کوائف سے معلوم ہوگا۔سالانہ جلسه ۱۸۹۲ء غرض باوجود اس شدید مخالفت کے جلسہ اپنی مقررہ تاریخوں پر ہوا۔اور اس جلسہ پر قریباً پانچ سو لوگ جمع ہوئے لیکن وہ احباب اور مخلص جو محض اللہ شریک جلسہ ہونے کے لئے دور دور