حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 391
حیات احمد ۳۹۱ علم دین کے لئے اور اپنے شبہات دور کرنے کے لئے اور اپنے دینی بھائیوں اور عزیزوں کو ملنے کے لئے سفر کرنے کو موجب ثواب کثیر و اجر عظیم قرار دیا ہے بلکہ زیارت صالحین کے لئے سفر کرنا قدیم سے سنت سلف صالح چلی آئی ہے اور ایک حدیث میں ہے کہ جب قیامت کے دن ایک شخص اپنی بداعمالی کی وجہ سے سخت مؤاخذہ میں ہو گا تو اللہ جل شانہ اس سے پوچھے گا کہ فلاں صالح آدمی کی ملاقات کے لئے کبھی تو گیا تھا۔تو وہ کہے گا بالا رادہ تو کبھی نہیں گیا مگر ایک دفعہ ایک راہ میں اُس کی ملاقات ہو گئی تھی تب خدا تعالیٰ کہے گا کہ جا بہشت میں داخل ہو میں نے اُسی ملاقات کی وجہ سے تجھے بخش دیا۔اب اے کو نہ نظر مولوی ! ذرہ نظر کر کہ یہ حدیث کس بات کی ترغیب دیتی ہے۔اور اگر کسی کے دل میں یہ دھوکہ ہو کہ اس دینی جلسہ کے لئے ایک خاص تاریخ کیوں مقرر کی۔ایسا فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم سے کب ثابت ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بخاری اور مسلم کو دیکھو کہ اہل بادیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مسائل کے دریافت کرنے کے لئے اپنی فرصت کے وقتوں میں آیا کرتے تھے اور بعض خاص خاص مہینوں میں ان کے گروه فرصت پا کر حاضر خدمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوا کرتے تھے اور صحیح بخاری میں اَبِی جَمْرَہ سے روایت ہے۔قَالَ إِنَّ وَفْدَ عَبْدَ الْقَيْسِ آتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا إِنَّا نَأْتِيكَ مِنْ شِقَّةٍ بَعِيْدَةٍ وَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَّأْتِيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَام - یعنی ایک گروہ قبیلہ عبدالقیس کے پیغام لانے والوں کا جو اپنی قوم کی طرف سے آئے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ ہم لوگ دور سے سفر کر کے آتے ہیں۔اور بجز حرام مہینوں کے ہم حاضر خدمت ہو نہیں سکتے اور ان کے قول کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے رڈ نہیں کیا اور قبول کیا۔پس اس حدیث سے بھی یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جو لوگ طلب علم یا جلد سوم