حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 393
حیات احمد ۳۹۳ جلد سوم سے تشریف لائے ان کی تعداد قریباً ۳۲۵ تھی۔میں اس جلسہ میں شریک نہ تھا اس لئے کہ سالانہ امتحان قریب تھا۔دوسرے میں نے اور حضرت عم مکرم صوفی مولا بخش صاحب رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ایک جلسہ پر وہ جائیں اور دوسرے پر میں اور واپس آ کر جلسہ کے کوائف کا خلاصہ سنا دیا کریں چنانچہ اس جلسہ پر وہ شریک تھے اور نمبر ۵۵ پر ان کا اسم گرامی درج ہے۔چونکہ میری طبیعت واقعات کے محفوظ کرنے اور تحقیق کا جوش رکھتی تھی میں نے حالات جلسہ کو بعض احباب سے بھی دریافت کیا۔اس کی روئداد آئینہ کمالات اسلام میں بھی شائع ہو گئی۔اس جلسہ پر حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ مالیر کوٹلہ سے آئے اور حضرت بابا زین الدین ابراہیم انجینئر رضی اللہ عنہ بمبئی سے اور حضرت حکیم الامت جموں سے آئے ان تمام احباب کے اسماء اس رپورٹ میں درج ہیں۔میں نے پسند کیا کہ سنے ہوئے واقعات کی بنا پر حالات بیان کرنے کی بجائے اس رپورٹ کو جو آئینہ کمالات اسلام میں شائع ہوئی ہے درج کر دیا جاوے۔اس جلسہ میں اشاعت اسلام کے مستقل انتظام کے لئے ایک مطبع کا قیام اور ایک اخبار کے اجراء کا بھی فیصلہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے مطبع کے قیام کا بھی انتظام کر دیا۔اور کچھ عرصہ کے بعد ضیاء الاسلام پر لیس کے نام سے مطبع قائم ہو گیا۔اجرائی اخبار کی تجویز مشیت ایزدی کے ماتحت ایک عرصہ تک ملتوی رہی۔اور ۱۸۹۷ء میں اللہ تعالیٰ نے خاکسار عرفانی کو تو فیق دی کہ وہ الحکم کے نام سے ایک اخبار جاری کر سکا اور ۱۸۹۸ء کے شروع میں قادیان آ گیا اور الحمدللہ آج تک جاری ہے اور میری دوسری نسل ( عزیز خالد عرفانی) اس کے زندہ رکھنے میں ایک کشمکش سے گزر رہا ہے۔سالانہ جلسہ کی رپورٹ اس جلسہ کے موقعہ پر اگر چہ پانچ سو کے قریب لوگ جمع تھے۔لیکن وہ احباب اور مخلص جو محض للہ شریک جلسہ ہونے کے لئے دور دور سے تشریف لائے ان کی تعداد قریب تین سو پچپیں ۳۲ کے پہنچ گئی تھی۔