حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 389 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 389

حیات احمد ۳۸۹ خواہ وہ جہاد تلوار سے ہو اور خوہ بطور مباحثہ کے اور کبھی سفر بہ نیت مباہلہ ہوتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور کبھی سفر اپنے مرشد کے ملنے کے لئے جیسا کہ ہمیشہ اولیاء کبار جن میں سے حضرت شیخ عبدالقادر رضی اللہ عنہ اور حضرت بایزید بسطامی اور حضرت معین الدین چشتی اور حضرت مجد دالف ثانی بھی ہیں اکثر اس غرض سے بھی سفر کرتے رہے جن کے سفر نامے اکثر اُن کے ہاتھ کے لکھے ہوئے اب تک پائے جاتے ہیں۔اور کبھی سفر فتویٰ پوچھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے اُس کا جواز بلکہ بعض صورتوں میں وجوب ثابت ہوتا ہے اور امام بخاری کے سفر طلب علم حدیث کے لئے مشہور ہیں شاید میاں رحیم بخش کو خبر نہیں ہوگی اور کبھی سفر عجائبات دنیا کے دیکھنے کے لئے بھی ہوتا ہے جس کی طرف آیت کریمہ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ اشارت فرما رہی ہے اور کبھی سفر صادقین کی صحبت میں رہنے کی غرض سے جس کی طرف آیت کریمہ يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ "ہدایت فرماتی ہے اور کبھی سفر عیادت کے لئے بلکہ انتباع خیار کے لئے بھی ہوتا ہے اور کبھی بیمار یا بیمار دار علاج کرانے کی غرض سے سفر کرتا ہے اور کبھی کسی مقدمہ عدالت یا تجارت وغیرہ کے لئے بھی سفر کیا جاتا ہے اور یہ تمام قسم سفر کی قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی رو سے جائز ہیں بلکہ زیارت صالحین اور ملاقات اخوان اور طلب علم کے سفر کی نسبت احادیث صحیحہ میں بہت کچھ کت و ترغیب پائی جاتی ہے اگر اس وقت وہ تمام حدیثیں لکھی جائیں تو ایک کتاب بنتی ہے ایسا فتویٰ لکھانے والے اور لکھنے والے یہ خیال نہیں کرتے کہ ان کو بھی تو اکثر اس قسم کے سفر پیش آ جاتے ہیں۔پس اگر بجز تین مسجدوں کے اور تمام سفر کر نے حرام ہیں تو چاہئے کہ یہ لوگ اپنے تمام رشتے ناطے اور عزیز اقارب چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کبھی اُن کی الانعام :١٢ التوبة: ١١٩ جلد سوم