حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 390 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 390

حیات احمد ۳۹۰ ملاقات یا اُن کی غم خواری یا اُن کی بیمار پرسی کے لئے بھی سفر نہ کریں۔میں خیال نہیں کرتا بجز ایسے آدمی کے جس کو تعصب اور جہالت نے اندھا کر دیا ہو وہ ان تمام سفروں کے جواز میں متأمل ہو سکے۔صحیح بخاری کا صفحہ ۱۶ کھول کر دیکھو کہ سفر طلب علم کے لئے کس قدر بشارت دی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَطْلُبُ بِهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللهُ لَهُ طَرِيقَ الْجَنَّةِ یعنی جو شخص طلب علم کے لئے سفر کرے اور کسی راہ پر چلے تو خدا تعالیٰ بہشت کی راہ اس پر آسان کر دیتا ہے۔اب اے ظالم مولوی ! ذرا انصاف کر تو نے اپنے بھائی کا نام جو تیری طرح کلمہ گو اہل قبلہ اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے مردود رکھا اور خدا تعالیٰ کی رحمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے بکلی محروم قرار دیا اور اس صحیح حدیث بخاری کی بھی کچھ پرواہ نہ کی کہ اَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِيْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصًا مِنْ قلبِه اَوْ نَفْسِہ اور مردود ٹھہرانے کی اپنے فتویٰ میں وجہ یہ ٹھہرائی کہ ایسا اشتہار کیوں شائع کیا اور لوگوں کو جلسہ پر بلانے کے لئے کیوں دعوت کی۔اے ناخدا ترس! ذرہ آنکھ کھول کر پڑھ کہ اُس اشتہارے دسمبر ۱۸۹۲ء کا کیا مضمون ہے کیا اپنی جماعت کو طلب علم اور حلت مشکلات دین اور ہمددری اسلام اور برادرانہ ملاقات کے لئے بلایا ہے یا اُس میں کسی اور میلہ تماشا اور راگ وسرود کا ذکر ہے۔اے اس زمانہ کے ننگ اسلام مولویو! تم اللہ جل شانہ سے کیوں نہیں ڈرتے۔کیا ایک دن مرنا نہیں یا ہر یک مؤاخذہ تم کو معاف ہے۔حق بات کو سن کر اور اللہ اور رسول کے فرمودہ کو دیکھ کر تمہیں یہ خیال تو نہیں آتا کہ اب اپنی ضد سے باز آجائیں۔بلکہ مقدمہ باز لوگوں کی طرح یہ خیال آتا ہے کہ آؤ کسی طرح باتوں کو بنا کر اس کا رڈ چھا ہیں تا لوگ نہ کہیں کہ ہمارے مولوی صاحب کو کچھ جواب نہ آیا۔اس قدر دلیری اور بد دیانتی اور یہ بجل اور بغض کس عمر کے لئے۔آپ کو فتویٰ لکھنے کے وقت وہ حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں جلد سوم