حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 388 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 388

حیات احمد ۳۸۸ صریح صریح اور ظاہر ظاہر الفاظ سے اشتہار میں لکھ چکا کہ یہ سفر ہر یک مخلص کا طلب علم کی نیت سے ہوگا پھر یہ فتوی دینا کہ جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔کس قدر دیانت اور امانت اور انصاف اور تقویٰ اور طہارت سے دور ہے۔رہی یہ بات کہ ایک تاریخ مقررہ پر تمام بھائیوں کا جمع ہونا تو یہ صرف انتظام ہے اور انتظام سے کوئی کام کرنا اسلام میں کوئی مذموم امر اور بدعت نہیں إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات۔بطنی کے مادہ فاسدہ کو ذرا دور کر کے دیکھو کہ ایک تاریخ پر آنے میں کونسی بدعت ہے جبکہ ۲۷ / دسمبر کو ہر یک مخلص بآسانی ہمیں مل سکتا ہے اور اس کے ضمن میں ان کی باہم ملاقات بھی ہو جاتی ہے تو اس سہل طریق سے فائدہ اٹھانا کیوں حرام ہے۔تعجب کہ مولوی صاحب نے اس عاجز کا نام مردود تو رکھ دیا مگر آپ کو حدیثیں یاد نہ رہیں جن میں طالب علم کے لئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی نسبت ترغیب دی ہے اور جن میں ایک بھائی مسلمان کی ملاقات کے لئے جانا موجب خوشنودی خدائے عز و جل قرار دیا ہے اور جن میں سفر کر کے زیارت صالحین کرنا موجب مغفرت اور کفارہ گناہان لکھا ہے۔اور یاد رہے کہ یہ سراسر جہالت ہے کہ شَدِ رِحَال کی حدیث کا یہ مطلب سمجھا جائے کہ بجز، قصد خانہ کعبہ یا مسجد نبوی یا بیت المقدس اور تمام سفر قطعی حرام ہیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں کو مختلف اغراض کے لئے سفر کرنے پڑتے ہیں کبھی سفر طلب علم ہی کے لئے ہوتا ہے اور کبھی سفر ایک رشتہ دار یا بھائی یا بہن یا بیوی کی ملاقات کے لئے یا مثلاً عورتوں کا سفر اپنے والدین کے ملنے کے لئے یا والدین کا اپنی لڑکیوں کی ملاقات کے لئے اور کبھی مرد اپنی شادی کے لئے اور کبھی تلاش معاش کے لئے اور کبھی پیغام رسانی کے طور پر اور کبھی زیارت صالحین کے لئے سفر کرتے ہیں۔جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت اویس قرنی کے ملنے کے لئے سفر کیا تھا اور کبھی سفر جہاد کے لئے بھی ہوتا ہے جلد سوم