حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 387
حیات احمد ۳۸۷ ایک مولوی صاحب کی خدمت میں جو رحیم بخش نام رکھتے ہیں اور لاہور میں چینیاں والی مسجد کے امام ہیں ایک استفتا پیش کیا جس کا یہ مطلب تھا کہ ایسے جلسہ پر روز معین پر دور سے سفر کر کے جانے میں کیا حکم ہے۔اور ایسے جلسہ کے لئے اگر کوئی مکان بطور خانقاہ کے تعمیر کیا جائے تو ایسے مدد دینے والے کی نسبت کیا حکم ہے۔استفتا میں یہ خبر اس لئے بڑھائی گئی جو مستفتی صاحب نے کسی سے سنا ہوگا جو جبى فى الله اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب نے اس مجمع مسلمانوں کے لئے اپنے صرف سے جو غالباً سات سو روپیہ یا کچھ اس سے زیادہ ہو گا۔قادیان میں ایک مکان بنوایا جس کی امداد خرچ میں اخویم حکیم فضل دین صاحب بھیروی نے بھی تین چار سو روپیہ دیا ہے۔اس استفتا کے جواب میں میاں رحیم بخش صاحب نے ایک طول طویل عبارت ایک غیر متعلق حدیث شَدِ رحال کے حوالہ سے لکھی ہے جس کے مختصر الفاظ یہ ہیں کہ ایسے جلسہ پر جانا بدعت بلکہ معصیت ہے اور ایسے جلسوں کا تجویز کرنا محدثات میں سے ہے جس کے لئے کتاب اور سنت میں سے کوئی شہادت نہیں اور جو شخص اسلام میں ایسا امر پیدا کرے وہ مردود ہے۔اب منصف مزاج لوگ ایمانا کہیں کہ ایسے مولویوں اور مفتیوں کا اسلام میں موجود ہونا قیامت کی نشانی ہے یا نہیں۔اے بھلے مانس کیا تجھے خبر نہیں کہ علم دین کیلئے سفر کرنے کے بارے میں صرف اجازت ہی نہیں بلکہ قرآن اور شارع علیہ السلام نے اُس کو فرض ٹھہرا دیا ہے جس کا عمداً تارک مرتکب کبیرہ اور عمداً انکار پر اصرار بعض صورتوں میں کفر ہے کیا تجھے معلوم نہیں کہ نہایت تاکید سے فرمایا گیا ہے کہ طلب الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَ مُسْلِمَةٍ اور فرمایا گیا ہے کہ اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَ لَوْ كَانَ فِي الصَّيْنِ یعنی علم طلب کرنا ہر یک مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔اور علم کو طلب کرو اگر چہ چین میں جانا پڑے۔اب سوچو کہ جس حالت میں یہ عاجز اپنے جلد سوم