حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 386 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 386

حیات احمد ۳۸۶ جلد سوم استفاده ضروریات دین و مشوره اعلاء کلمه اسلام و شرع متین اس عاجز سے ملاقات کریں اور اس مشورہ کے وقت یہ بھی قرین مصلحت سمجھ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ۲۷ / دسمبر کو اس غرض سے قادیان میں آنا انسب اور اولی ہے کیونکہ یہ تعطیل کے دن ہیں اور ملا زمت پیشہ لوگ ان دنوں میں فرصت اور فراغت رکھتے ہیں اور بباعث ایام سرما یہ دن سفر کے مناسب حال بھی ہیں چنانچہ احباب اور مخلصین نے اس مشورہ پر اتفاق کر کے خوشی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ یہ بہتر ہے۔اب ۱۷ دسمبر ۱۸۹۲ء کو اسی بناء پر اس عاجز نے ایک خط بطور اشتہار کے تمام مخلصوں کی خدمت میں بھیجا۔جو ریاض ہند پر لیس قادیان میں چھپا تھا جس کے مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اس جلسہ کے اغراض میں سے بڑی غرض یہ بھی ہے کہ تا ہر یک مخلص کو بالمواجہ دینی فایدہ اٹھانے کا موقعہ ملے اور ان کے معلومات دینی وسیع ہوں اور معرفت ترقی پذیر ہو اب سنا گیا ہے کہ اس کارروائی کو بدعت بلکہ معصیت ثابت کرنے کے لئے ایک بزرگ نے ہمت کر کے بقیہ حاشیہ۔اور خدا تعالیٰ اس امت وسطہ کے لئے بین بین کی راہ زمین پر قائم کر دے گا۔وہی راہ جس کو قرآن لایا تھا وہی راہ جو رسول کریم صلی اللہ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو سکھلائی تھی وہی ہدایت جو ابتداء سے صدیق اور شہید اور صلحا پاتے رہے۔یہی ہو گا اور یہی ہوگا۔جن کے کان سننے کے ہوں سنے۔مبارک وہ لوگ جن پر سیدھی راہ کھولی جائے۔بالآخر میں دعا پر ختم کرتا ہوں کہ ہر یک صاحب جو اس لیہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں۔خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کی حالت ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرما دے اور ان کو ہر یک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔اور ان کی مرادات کی راہیں ان پر کھول دیوے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر ان کا فضل و رحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے خدا اے ذوالحجد والعطا اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطا فرما کہ ہر ایک طاقت اور قوت تجھی کو ہے۔آمین ثم آمین وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور علی اللہ عنہ۔(۷/ دسمبر ۱۸۹۳ء) مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۲۸۲،۲۸۱ طبع بار دوم )