حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 371 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 371

حیات احمد ۳۷۱ جلد سوم کچھ اندیشہ بلکہ میں خوش ہوں کہ میاں نذیر حسین اور شیخ بٹالوی اور ان کے اتباع نے مجھ کو کا فر اور مردود اور ملعون اور دجال اور ضال اور بے ایمان اور جہنمی اور اکفر کہہ کر اپنے دل کے وہ بخارات نکال لئے جو دیانت اور امانت اور تقویٰ کے التزام سے ہرگز نہیں نکل سکتے تھے اور جس قدر میری اتمام حجت اور میری سچائی کی تلخی سے ان حضرات کو زخم پر زخم پہنچا اس صدمہ عظیمہ کا غم غلط کرنے کے لئے کوئی اور طریق بھی تو نہیں تھا بجز اس کے کہ لعنتوں پر آ جاتے مجھے اس بات کو سوچ کر بھی خوشی ہے کہ جو کچھ یہودیوں کے فقیہوں اور مولویوں نے آخر کار حضرت مسیح علیہ السلام کو تحفہ دیا تھا وہ بھی تو یہی لعنتیں اور تکفیر تھی جیسا کہ اہل کتاب کی تاریخ اور ہر چہار انجیل سے ظاہر ہے تو پھر مجھے مثیل مسیح ہونے کی حالت میں ان لعنتوں کی آوازیں سن کر بہت ہی خوش ہونا چاہئے کیونکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے کو حقیقت دجّالیہ کے ہلاک اور فانی کرنے کے لئے حقیقت عیسویہ سے متصف کیا۔ایسا ہی اس نے اس حقیقت کے بقیہ حاشیہ۔تو یہ صوفی کیوں چھپتا پھرتا ہے۔مناسب ہے کہ اسی طرح مقابل پر اپنا نام لکھیں کہ میں ہوں فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں اور اگر ایسا نہ کریں گے تو منصف لوگ سمجھ لیں گے کہ یہ کارروائی ان لوگوں کی دیانت اور انصاف اور حق طلبی سے بعید ہے۔اب بالفعل اس سے زیادہ لکھنا ضروری نہیں۔جس وقت اس صوفی محجوب پردہ نشین کا چھپا ہوا اشتہار میری نظر سے گزرے گا۔اس وقت اس کی درخواست کا مفصل جواب دوں گا۔ابھی تک میرے خیال میں ایسے صوفی اور عنقا میں کچھ فرق معلوم نہیں ہوتا۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى الراقم خاکسار غلام احمد۔۷ رمئی ۱۸۹۲ء مکرر یہ کہ ایک نقل اس کے چھپنے کے لئے اخبار پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں بھیجی گئی تا کہ یہ کارروائی مخفی نہ رہے۔بالآخر یا در ہے کہ اگر اس دفعہ کے چھپنے اور شائع ہونے کے بعد کوئی صوفی صاحب میدان میں نہ آئے اور بالمقابل کھڑے نہ ہوئے اور مرد میدان بن کر بتفریح اپنے نام کے اشتہار شائع نہ کئے تو سمجھا جائے گا کہ دراصل کوئی صوفی نہیں۔صرف شیخ بٹالوی کی ایک مفتر یانہ کارروائی ہے۔فقط مکتوبات احمد جلد اوّل صفحه ۶۴۰،۶۳۹ مطبوعه ۶۲۰۰۸)