حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 370
حیات احمد جلد سوم شیخ بٹالوی کے فتویٰ تکفیر کی کیفیت اور شیخ بٹالوی نے تو اپنے رسالہ میں یہ بڑا بول بولا تھا کہ ” میں نے ہی اس کو اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا اور واقعات نے بتا دیا کہ وہ نہ صرف خود مٹ گیا بلکہ نہایت ناکام و نامرادی کی حالت میں اس دنیا سے گزر گیا اس کی حقیقت انجام المکذبین کے سلسلہ میں مستقل رسالہ کے طور پر شائع ہو چکا ہے بہر حال حضرت اقدس نے اس فتویٰ کفر کی حقیقت کے اظہار کے لئے ذیل کا اعلان شائع کیا۔اس فتوے کو میں نے اوّل سے آخر تک دیکھا۔جن الزامات کی بناء پر یہ فتویٰ لکھا ہے انشاء اللہ بہت جلد ان الزامات کے غلط اور خلاف واقعہ ہونے کے بارے میں ایک رسالہ اس عاجز کی طرف سے شائع ہونے والا ہے۔جس کا نام دافع الوساوس ہوگا بائیں ہمہ مجھ کو ان لوگوں کے لعن وطعن پر کچھ افسوس نہیں اور نہ بقیہ حاشیہ۔کرتے ہیں۔آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہوتحریر فرماویں۔فقط۔اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر در حقیقت کوئی صوفی صاحب اس عاجز کے مقابلہ پر اٹھے ہیں اور جو کچھ فیصلہ آسمانی میں اس عاجز نے لکھا ہے اس کو قبول کر کے تصفیہ حق اور باطل کا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ وہ چوروں کی طرح کارروائی نہ کریں۔پردہ سے اپنا منہ باہر نکالیں۔اور مرد میدان بن کر ایک اشتہار دیں اسی اشتہار میں بتفریح اپنا نام لکھیں۔اور اپنا دعویٰ بالمقابل ظاہر فرما ئیں اور پھر اس طرز پر چلیں۔جس طرز پر اس عاجز نے فیصلہ آسمانی میں تصفیہ چاہا ہے۔اگر وہ طرز منظور نہ ہو تو فریقین میں ثالث مقرر ہو جائیں۔جو کچھ وہ ثالث حسب ہدایت اللہ اور رسول کے روحانی آزمائش کا طریق پیش کریں وہی منظور کیا جائے۔چوروں اور نامردوں اور مختوں کی طرح کا رروائی کرنا کسی صوفی صافی کا کام نہیں ہے۔جبکہ اس عاجز نے علانیہ اپنی طرف سے دو ہزار جلد فیصلہ آسمانی کی چھپوا کر اس غرض سے تقسیم کی ہے تا اگر اس فرقہ مکفرہ میں کوئی صوفی اور اہل صلاح موجود ہے تو میدان میں باہر آ جائے۔تو پھر بُرقع کے اندر بولنا کس بات پر دلالت کر رہا ہے۔کیا یہ شخص مرد ہے یا عورت جو اپنے تئیں صوفی کے نام سے ظاہر کرتا ہے۔کیا اس عاجز نے بھی اپنا نام لکھنے سے کنارہ کیا ہے۔پھر جس حالت میں میری طرف سے مردانہ کارروائی ہے اور کھلے کھلے طور سے اپنا نام لکھا ہے