حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 372
حیات احمد ۳۷۲ جلد سوم متعلق جو جو نوازل و آفات تھے ان سے بھی خالی نہ رکھا۔لیکن اگر کچھ افسوس ہے تو صرف یہ کہ بٹالوی صاحب کو اس فتوے کے طیار کرنے میں یہودیوں کے فقیہوں سے بھی زیادہ خیانت کرنی پڑی۔اور وہ خیانت تین قسم کی ہے:۔اوّل یہ کہ بعض لوگ جو مولویت اور فتویٰ دینے کا منصب نہیں رکھتے وہ صرف مکفرین کی تعداد بڑھانے کے لئے مفتی قرار دیئے گئے۔دوسری یہ کہ بعض ایسے لوگ جو علم سے خالی اور علانیہ فسق و فجور بلکہ نہایت بدکاریوں میں مبتلا تھے وہ بہت بڑے عالم متشرح متصور ہو کر ان کی مہریں لگائی گئیں۔تیسرے ایسے لوگ جو علم و دیانت رکھتے تھے مگر واقعی طور پر اس فتوے پر انہوں نے مہر نہیں لگائی بلکہ بٹالوی صاحب نے سراسر چالا کی اور افترا سے خود بخودان کا نام اس میں جڑ دیا۔ان تینوں قسم کے لوگوں کے بارے میں ہمارے پاس تحریری ثبوت ہیں اگر بٹالوی صاحب یا کسی اور صاحب کو بقیہ حاشیہ۔جواب الجواب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بَعْدَ الْحَمْدِ وَ الصَّلوة ـ بخدمت میرزا غلام احمد صاحب۔سلام مسنون آپ کا عنایت نامہ مورخہ ۷ ارمئی میرے نیاز نامہ کے جواب میں وارد ہوا۔اسے اوّل سے آخر تک پڑھ کر سخت افسوس ہوا۔کہ آپ نے دانستہ ٹلانے کے واسطے سوال از آسمان جواب از ریسمان کے موافق عمل کر کے بیچنا چاہا ہے اصل مطلب تو آپ نے چھوڑ دیا یعنی آزمائش کے واسطے وقت اور مقام مقرر نہیں کیا بلکہ پھر آپ نے اپنی عادت قدیمی کے مطابق کاغذی گھوڑے دوڑانے شروع کر دیئے۔جناب من ! جس طرح آپ نے فیصلہ آسمانی میں چھاپا تھا۔اسی طرح اشاعۃ السنہ میں ان صوفی صاحب نے جواب ترکی بہ ترکی شائع کر دیا ہے آپ کو تو غیرت کر کے بلا تحریک دیگر خود ہی طیار ہو جانا چاہئے تھا۔برعکس اس کے تحریک کرنے پر بھی بہانہ کرتے ہیں اور ٹلاتے ہیں صوفی صاحب نے خود قصداً اپنا نام پوشیدہ نہیں رکھا بلکہ مولوی محمد حسین صاحب نے کسی مصلحت سے ظاہر نہیں