حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 358
حیات احمد ۳۵۸ جلد سوم تصوف کے رنگ میں۔کرنیل صاحب نے اعلان کیا تھا جس کے جواب میں یہ تقریر تھی۔حاضرین بہت متاثر ہوئے۔مولوی غلام محمد صاحب جو کپورتھلہ کے علماء میں سے تھے آبدیدہ ہو گئے اور انہوں نے ہاتھ بڑھائے کہ مجھے آپ بیعت کر لیں۔مگر حضور نے بیعت کرنے سے انکار کیا۔بعد میں مولوی مذکور سخت مخالف رہے۔غرض ایک دن قیام فرما کر حضور قادیان تشریف لے گئے۔اور لدھیانہ سے آئے تھے ہم کرتار پور کے اسٹیشن پر پہنچانے گئے یعنی منشی روڑا صاحب۔محمد خاں صاحب اور میں۔اگر کوئی اور بھی ساتھ کرتار پور گیا ہو تو مجھے یاد نہیں۔کرتار پور کے اسٹیشن پر ہم نے ظہر عصر کی نماز جمع کی حضرت صاحب کے ساتھ۔نماز کے بعد میں نے عرض کی کہ کس قدر مسافت پر نما ز جمع کر سکتے ہیں اور قصر کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ انسان کی حالت کے اوپر یہ بات ہے۔ایک شخص ناطاقت اور ضعیف العمر ہو تو وہ پانچ چھ میل پر بھی قصر کر سکتا ہے اور مثال دی کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے مزدلفہ میں نماز قصر کی۔حالانکہ وہ مکہ شریف سے قریب جگہ ہے۔مخالفین کی شرارت کپورتھلہ کی جماعت ریاست میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی تھی اور اس کے مقابلہ کی کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی اس لئے کہ سب کے سب صاحب اثر لوگ تھے مولوی محمد حسین بٹالوی نے یہاں کے بعض اپنے ساتھ تعلق رکھنے والے ملاؤں کے پاس ایک اشتہار بہ عنوان بددعانامہ بھیجا جس میں کپورتھلہ پہنچ کر مباحثہ کرنے کا ادعا تھا وہ جانتا تھا کہ مباحثہ ہوگا تو نہیں۔حضرت اقدس کے پاس وہ اشتہار پہنچا تو آپ نے اسی قسم کا جواب دیا جو سیالکوٹ میں دیا تھا۔اور مزید فرمایا کہ یہ شخص لودھانہ کی ندامت کو مٹانے کے لئے ایسی حرکات کر رہا ہے اللہ تعالیٰ کے آسمانی فیصلہ کی طرف یہ لوگ کیوں نہیں آتے۔