حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 354 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 354

حیات احمد ۳۵۴ جلد سوم کے لئے تو عوام کے قلوب میں ایک خاص کشش تھی۔حقیقت اسلام اور معارف قرآن کریم پران کی تقریروں اور درس میں کثرت سے لوگ شریک ہوتے تھے ان کی بیعت سے بھی متاثر تھے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی قسم کی ذلیل حرکات آپ کے مقابلہ میں نہیں ہوئیں لوگ آتے اور سوالات بھی کرتے اور حضرت جواب دیتے۔بعض اوقات اس سلسلہ میں تقریر بھی فرماتے۔چونکہ سیالکوٹ کے لوگ آپ کے اعلیٰ کردار سے واقف تھے اور ان کے دلوں میں آپ کے لئے خاص عزت تھی اس لئے یہاں اس قسم کی بیہودگی نہیں ہوئی جو دہلی میں ہوئی اور لاہور سے بھی بہت زیادہ ( با وجود اختلاف عقیدہ) احترام آپ کا ہوا۔اور آپ کے سلسلہء بیعت میں ممتاز شرفائے سیالکوٹ اور مشہور علمائے دین داخل ہو گئے اگر چہ یہ کوئی بڑی جماعت نہ تھی مگر ان میں کا ہر ایک فرد اپنی جگہ پر ایک امت اور جماعت تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم کا سکہ اُن کی قرآن دانی اور خطابت اور غیرتِ اسلام کی وجہ سے تعلیم یافتہ اور دوسرے لوگوں پر تھا۔ایسا ہی صدر بازار کی جامع مسجد کے امام حضرت مولوی ابو یوسفی مبارک علی صاحب بھی سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے اور معزز خواتین بھی داخل سلسلہ ہوئیں۔چنانچہ انہی دنوں میں مکرم سر ظفر اللہ خاں صاحب کی والدہ ماجدہ جو صاحب کشف و الہام تھیں داخل سلسلہ ہوئیں اس وقت تک چودھری نصر اللہ خاں صاحب رضی اللہ عنہ نے بیعت نہیں کی تھی مگر وہ مخالف بھی نہ تھے وہ اپنے معاصرین میں ایک ممتاز اور مشہور قانون دان ہونے کے علاوہ اپنی عملی اسلامی زندگی میں بھی مُشَارٌ إِلَيه تھے۔کا حاشیہ۔حضرت مولوی ابو یوسف مبارک علی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک استاد مولوی فضل احمد صاحب مرحوم کے صاحبزادہ تھے اور حضرت اقدس ان کی بڑی رعایت رکھتے تھے اور ہمیشہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے مگر افسوس ہے کہ خلافت ثانیہ کے زمانہ میں انہوں نے انکار خلافت کیا۔حالانکہ انہوں نے ایک زمانہ میں حضرت خلیفتہ اسی ثانی کی مدح میں ایک قصیدہ بھی لکھا تھا۔بہر حال اب وہ فوت ہو چکے ہیں۔ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے اور ان پر وہ حقیقت جو اس فانی دنیا میں کسی وجہ سے مشتبہ ہوئی کھل چکی ہوگی۔میں تو اپنے مولیٰ کریم سے ان کی ستاری اور مغفرت ہی کی دعا کرتا ہوں۔عرفانی الکبیر