حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 347 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 347

حیات احمد ۳۴۷ جلد سوم معنوں کے رو سے بیان کئے گئے ہیں ورنہ حاشا و کلا مجھے نبوت حقیقی کا ہرگز دعویٰ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ میں کتاب ازالة الاوھام کے صفحہ ۱۳۷ میں لکھ چکا ہوں۔میرا اس بات پر ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلّم خاتم الانبیاء ہیں۔سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں میں یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں کیونکہ کسی طرح مجھ کو مسلمانوں میں تفرقہ اور نفاق ڈالنا منظور نہیں ہے جس حالت میں ابتدا سے میری نیت میں جس کو اللہ تعالیٰ جَلَّ شَانُه خوب جانتا ہے۔اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے بلکہ صرف محدث مراد ہے۔جس کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ بقیہ حاشیہ۔آیا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ تھا اور میں اُس میں کا تب تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پر چوں کی نقل کرتا تھا مفتی محمد صادق صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ غالباًا حضرت صاحب کونون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی اس میں جناب مفتی صاحب کو غلطی لگی ہے۔کیونکہ مفتی صاحب وہاں نہیں تھے۔نون خفیفہ و ثقیلہ کی بحث تو دہلی میں مولوی محمد بشیر سہسوانی قسم بھوپالی کے ساتھ تھی اور تلاش حوالہ بخاری کا واقعہ لدھیانہ کا ہے۔بات یہ تھی کہ لدھیانہ کے مباحثہ میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا تھا۔بخاری موجود تھی لیکن اس وقت اس میں یہ حوالہ نہیں ملتا تھا۔آخر کہیں سے توضیح تلویح منگا کر حوالہ نکال کر دیا گیا صاحب توضیح نے لکھا ہے کہ یہ حدیث بخاری میں ہے۔“ اور اسی واقعہ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ روایت نمبر ۳۰۶ میں حضرت حکیم الامت خلیفہ امسیح اول کی روایت سے ایک واقعہ بیان کیا گیا اور حضرت مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کی روایت سے اس کی مزید تصریح کے گئی ہے۔مگر مفتی صاحب نے اُسے لدھیانہ کے متعلق بیان کیا ہے اور نونِ ثقیلہ والی بحث کے تعلق میں ذکر کیا ہے جو درست نہیں ہے۔مفتی صاحب کو اس میں غلطی لگی ہے لدھیانہ میں نہ تو نونِ ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث ہوئی اور نہ اس قسم کے حوالہ جات پیش کرنے پڑے۔نونِ ثقیلہ کی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر بھوپالی والے مباحثہ کے دوران میں پیش آئی تھی۔اور وہ نونِ ثقیلہ کی بحث میں الجھ کر رہ گئے تھے۔اور جہاں تک میری یاد مساعدت کرتی ہے اس مقصد کے لئے بخاری کا کوئی حوالہ پیش نہیں ہوا۔الحق دہلی