حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 346
۳۴۶ جلد سوم حیات احمد العبد العبد العبد العبد العبد فضل دین 8204 18548209 رحیم اللہ ابویوسف محمد مبارک علی حبیب اللہ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّينَ أَمَّا بعد تمام مسلمانوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ اس عاجز کے رسالہ فتح الاسلام و توضیح المرام و ازالة الاوهام میں جس قدر ایسے الفاظ موجود ہیں کہ محدث ایک معنی میں نبی ہوتا ہے یا یہ کہ محدثیت جزوی نبوت ہے یا یہ کہ محدثیت نبوت نا قصہ ہے یہ تمام الفاظ حقیقی معنوں پر محمول نہیں ہیں۔بلکہ صرف سادگی سے ان کے لغوی بقیہ حاشیہ۔ہو کر رہے پھر وہ خود حقیقی ضرورت کے وقت اس کے لئے غیب سے سامان پیدا کر دیتا ہے اور اگر اس وقت تقدیر عام کے ماتحت اسباب میسر نہ آ سکتے ہوں اور ضرورت حقیقی ہو تو تقدیر خاص کے ماتحت بغیر مادی اسباب کے اُس کی دستگیری فرمائی جاتی ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو۔مگر وہ شخص جس کی نظر عالم مادی سے آگے نہیں جاتی اس حقیقت سے نآشنا رہتا ہے۔مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے۔فلسفی کو منکر حنانه است ☆ از حواس انبیاء بیگانه است (سیرت المہدی جلد ۱ صفحه ۲۸۲ ،۲۸۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس روایت کی اشاعت پر میں نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو ایک خط بغرض تصحیح لکھا جسے انہوں نے سیرت المهدی جلد سوم کے صفحہ ۴ پر اس طرح پر درج کیا۔(۸) روایت نمبر ۳۰۶ میں خارق عادت طور پر بخاری کا حوالہ مل جانے کا واقعہ مذکور ہے اور اس کے متعلق یہ الفاظ درج ہیں کہ۔" مفتی محمد صادق صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالبا نون ثقلیہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سواؤل تو بخاری ہی نہ ملتی تھی۔اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی الخ۔“ اس واقعہ کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ یہ واقعہ میرے سامنے پیش ترجمہ۔وہ فلسفی جو رونے والے ستون کا منکر ہے۔وہ انبیاء کی باطنی حسوں سے بے خبر ہے۔