حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 344 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 344

حیات احمد ۳۴۴ جلد سوم تکفیر کی آپ نے فرمایا بکیس ابلیس اس کا بہت بڑا ثبوت ہے آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوضات کے سلسلہ میں مکالمہ مخاطبہ کو بہت بڑا درجہ بیان کیا اور اسے حضور علیہ الصلوۃ و السلام کی زندہ نبوت کا ثبوت قرار دیا کہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ موجود رہے ہیں اور موجود رہیں گے۔اور یہ امر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی ثابت ہے کہ ایسے لوگ پہلی امتوں میں بھی ہوئے ہیں اور میری امت میں بھی۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان میں سے ایک ہیں۔ایک اعجاز یہ بیان جاری تھا کہ مولوی احمد علی صاحب نے شور مچانا شروع کیا کہ بخاری میں سے وہ حدیث نکال کر پیش کرو۔حضرت صاحب نے فرمایا مضمون ختم ہونے دو۔میں حدیث نکال کر پیش کر دوں گا۔مگر اُسے اپنے علم ( جو بے علمی کی بدترین مثال تھی ) پر گھمنڈ تھا وہ بار بار بخاری حضرت کی طرف پیش کرتا کہ لیجئے نکالئے اور یہ مطالبہ اس قدر تیز ہوا کہ گویا فیصلہ کا مدار اسی پر آ گیا۔جب حضرت مولوی محمد احسن صاحب تلاش میں سرگردان تھے اور فریقین مخالف کو یقین ہو گیا کہ حوالہ نہ ملے گا تو اس نے اور اصرار کیا تب حضر کیے نے خود بخاری لے کر چند ورق الٹے اور آخر حوالہ مَناقِبُ الْعُمَر میں مل گیا۔اور اسی پر مباحثہ ختم ہو گیا۔مولوی عبد الحکیم صاحب نے مزید گفتگو کو ضروری نہ سمجھا اور ازالہ وہم کے لئے قرار پایا کہ حضرت مسئلہ نبوت کے متعلق ایک اعلان کر دیں چنانچہ مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا گیا۔یا اس واقعہ کے متعلق حضرت حکیم الامت کی ایک روایت کے مطابق حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت المہدی جلد دوم نمبر ۳۰۶ میں اس طرح پر شائع فرمائی ہے۔(۳۰۶) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - حضرت مولوی نورالدین خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ کسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود سے کسی مخالف نے کوئی حوالہ طلب کیا اس وقت وہ حوالہ حضرت کو یاد نہیں تھا اور نہ آپ کے خادموں میں سے کسی اور کو یاد تھا لہذا شماتت کا اندیشہ پیدا ہوا مگر حضرت صاحب نے بخاری کا ایک نسخہ منگایا اور یونہی اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور جلد جلد ایک ایک ورق اس کا