حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 345
حیات احمد ۳۴۵ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جو مباحثہ لاہور میں مولوی عبدالحکیم صاحب اور مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے درمیان چند روز سے بابت مسئلہ دعوی نبوت مندرجہ کتب مرزا صاحب کے ہو رہا تھا آج مولوی صاحب کی طرف سے تیسرا پر چہ جواب الجواب کے جواب میں لکھا جارہا تھا اثنائے تحریر میں مرزا صاحب کی عبارت مندرجہ ذیل کے بیان کرنے پر جلسہ عام میں فیصلہ ہو گیا جو عبارت درج ذیل ہے۔العبد المرقوم ۳ / فروری ۱۸۹۲ء مطابق ۳ / رجب ۱۳۰۹ء العبد العبد برکت علی وکیل چیف کورٹ پنجاب محی الدین المعروف صوفی خاکسار رحیم بخش بقیہ حاشیہ۔الٹانے لگ گئے اور آخر ایک جگہ پہنچ کر آپ ٹھہر گئے اور کہا کہ لو یہ لکھ لو۔دیکھنے والے سب حیران تھے یہ کیا ماجرا ہے۔اور کسی نے حضرت صاحب سے دریافت بھی کیا۔جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب میں نے کتاب ہاتھ میں لے کر ورق الٹانے شروع کئے تو مجھے کتاب کے صفحات ایسے نظر آتے ہیں کہ گویا وہ خالی ہیں اور ان پر کچھ نہیں لکھا ہوا اسی لئے میں ان کو جلد جلد الٹا تا گیا آخر مجھے ایک صفحہ ملا جس پر کچھ لکھا ہوا تھا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ وہی حوالہ ہے جس کی مجھے ضرورت ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ سوائے اس جگہ کے کہ جس پر حوالہ درج تھا باقی تمام جگہ آپ کو خالی نظر آئی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول سے اس روایت کے سننے کے بعد ایک دفعہ خاکسار نے ایک مجمع میں یہ روایت زیادہ تفصیلی طور پر مفتی محمد صادق صاحب سے بھی سنی تھی۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالباً نون ثقلیہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سواؤل تو بخاری ہی نہیں ملتی تھی اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی اور اعتراض کرنے والے مولوی کے سامنے حوالہ کا جلد رکھا جانا از بس ضروری تھا۔اس پر آپ نے بخاری اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور چند چند صفحات کے بعد فرماتے تھے کہ یہ لکھ لو۔اس جلدی کو دیکھ کر کسی خادم نے عرض کیا کہ حضور ذرا اطمینان سے دیکھا جاوے تو شاید زیادہ حوالے مل جاویں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں بس یہی حوالے ہیں جو میں بتا رہا ہوں۔ان کے علاوہ اس کتاب میں کوئی حوالہ نہیں کیونکہ سوائے حوالہ کی جگہ کے مجھے سب جگہ خالی نظر آتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آدمی اللہ کا