حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 343
حیات احمد ۳۴۳ جلد سوم مباحثہ کے متعلق جو پرچے لکھے گئے تھے وہ مولوی عبد الحکیم صاحب لے گئے تھے اور انہوں نے واپس نہیں کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے دعوی کی بنیاد اس امر پر ہے کہ مسیح ابن مریم ناصری فوت ہو چکا ہے اور جس مسیح کے آنے کا وعدہ ہے وہ میں ہوں۔اگر مسیح کا زندہ آسمان پر جانا ثابت ہو جائے تو میرا دعویٰ خود غلط ہو جائے گا۔مگر مولوی عبدالحکیم صاحب نے کہا کہ میں اس بحث کی ضرورت نہیں سمجھتا۔پہلے آپ کا مسلمان ہونا تو ثابت ہو آپ نے نبوت کا دعویٰ کر کے اسلام سے خروج کیا ہے۔اور مسیح ابن مریم کا نزول تو خروج از اسلام نہیں بلکہ وہ اسی امت میں ہوگا۔حضرت اقدس نے فرمایا مجھ پر ادعائے نبوت کا ملہ کا الزام، برملا افترا ہے۔میں نے اپنی کتاب توضیح المرام ہی میں صاف لکھا ہے۔میں مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا امام ہوں۔ماسوا اس کے اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے اس امت کے لئے محدث ہو کر آیا ہے اور محدث بھی ایک معنے سے نبی ہی ہوتا ہے گو اس کے لئے نبوت تامہ نہیں مگر تا ہم جزوی طور پر وہ ایک نبی ہی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کا ایک شرف رکھتا ہے۔اور امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔الآخره " توضیح مرام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰) اور آپ نے یہ بھی فرمایا میرے مسلمان اور مومن ہونے کا ثبوت اس معیار پر کیا جا سکتا ہے جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں اور میں نے رسالہ آسمانی فیصلہ میں لکھے ہیں مگر ان کو اس پر اصرار رہا آخر تحریری مباحثہ شروع ہوا۔مولوی عبدالحکیم صاحب نے اپنا پر چہ اعتراض کی صورت میں لکھوایا ان کا کا تب ایک نو جوان سند یافتہ مولوی احمد علی تھا۔حضرت اقدس نے اپنے جواب میں زیادہ زور اسی امر پر دیا کہ اللہ تعالیٰ سے مکالمات و مخاطبات کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہوا۔اور نبوت کے مفہوم کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اولیائے امت کے ایسے الہامات کی بناء پر نہ صرف ان کا انکار کیا بلکہ ان کی