حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 332
حیات احمد ۳۳۲ جلد سوم ملک میں واعظ بھیجنے چاہیئیں۔اور کہتے ہیں کہ مدراس میں واعظ بھیجا جاوے اس کی تنخواہ کے لئے میں ثواب حاصل کروں گا۔غرض زندہ دل آدمی معلوم ہوتا ہے تمام اعتقاد سن کر آمَنَّا آمَنَّا کہا۔کوئی روک پیدا نہیں ہوئی اور کہا کہ جو لوگ مسلمان اور مولوی کہلا کر آپ کے مخالف ہیں وہ آپ کے مخالف نہیں بلکہ اسلام کے مخالف ہیں اسلام کی سچائی کی خوشبو اس راہ میں آتی ہے۔الغرض وہ محققانہ طبیعت رکھتے ہیں اور علوم جدیدہ میں مہارت رکھتے ہیں۔زیادہ تر خوشی یہ ہے کہ پابند نماز خوب ہے۔بڑے التزام سے نماز پڑھتا ہے۔جاتے وقت امام مسجد حافظ کو دو روپیہ نا دیئے اور اس عاجز کے ملازموں کو پوشیدہ طور پر چند روپیہ دینے چاہے۔مگر میرے اشارہ سے انہوں نے انکار کیا۔ایک مضبوط جوان دوہرا بدن کا مشابہ بدن قاضی خواجہ علی کے اور اس سے کچھ زیادہ۔خدا تعالیٰ اس کو استقامت بخشے۔کرنول احاطہ مدراس میں منصف ہے۔آنمکرم بھی اس سے خط و کتابت کریں۔ان کے پستہ کا ٹکٹ بھیجتا ہوں۔مگر ٹکٹ میں بلو رلکھا ہے وہاں سے بدلی ہوگئی ہوگی۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۱۳ / جنوری ۱۸۹۲ء یہ وعدہ کر کے گئے ہیں کہ ازالہ اوہام کے بعض مقامات انگریزی میں ترجمہ کر کے بھیج دوں گا۔ان کو چھپوا کر شائع کر دینا اور ازالہ اوہام کے دو جلد لے گئے ہیں۔قیمت دینے پر اصرار کرتے تھے مگر نہیں لی گئی۔مکتوبات احمد جلد پنجم صفحہ ۱۱۷ ۱۱۸۔مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۱۳۱ ۱۳۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) نوٹ۔۱۸۹۲ء کے بعد آپ کے وصال تک کوئی ایسا واقعہ نہیں گزرا جو خاکسار کا چشم دید نہ ہو۔بجز ڈیرہ بابا نانک کے سفر کے اور ۱۸۹۷ء کے اواخر سے قادیان ہی کی سکونت نصیب ہوئی۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ