حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 330 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 330

حیات احمد ۳۳۰ جلد سوم میں کوئی نشان دیکھوں جس کی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آ جاؤں اور انسانی طاقتوں میں اس کا کوئی نمونہ انہیں تمام لوازم کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا۔اس اشاعت اور اس اقرار کی اس لئے ضرورت ہے کہ خدائے قیوم و قدوس بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلا نا نہیں چاہتا۔جب تک کوئی انسان پورے انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اس کی طرف رجوع نہ کرے تب تک وہ بنظر رحمت رجوع نہیں کرتا اور اشاعت سے خلوص اور پختہ ارادہ ثابت ہوتا ہے۔اور چونکہ اس عاجز نے خدا تعالیٰ کے اعلام سے ایسے نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کے وعدے پر اشتہار دیا ہے۔سو وہی میعاد ڈاکٹر صاحب کے لئے قائم رہے گی۔طالب حق کے لئے یہ کوئی بڑی میعاد نہیں اگر میں ناکام رہا تو ڈاکٹر صاحب جو سزا اور تاوان میری مقدرت کے موافق میرے لئے تجویز کریں وہ مجھے منظور ہے اور بخدا مجھے مغلوب ہونے کی حالت میں سزائے موت سے بھی کچھ عذر نہیں۔ہماں بہ کہ جان در جہاں را ره فشانم او فشائم چه نقصاں اگر من نمانم وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المعلن المشـ خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی عَلَی الله عنه یاز دہم۔جنوری ۱۸۹۲ء آسمانی فیصلہ صفحہ ۱۸،۱۷۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۸ تا ۳۴۰۔نیز مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۲۵۰ تا ۲۵۳ طبع بار دوم ) ترجمہ۔یہی بہتر ہے کہ میں اس کی راہ میں جان قربان کر دوں اگر میں نہ رہوں تو دنیا کا کیا نقصان ہے۔