حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 322 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 322

حیات احمد ۳۲۲ آزمائیش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعوی میں صادق ہیں یا کا ذب۔اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شایع کریں جس میں یہ بیان ہو کہ رسول اللہ صلعم کی زیارت ہوئی اور آپ نے اپنی زیارت کی علامت فلاں فلاں پیشگوئی اور قبولیت دعا اور انکشاف حقائق و معارف کو بیان فرمایا پھر بعد اس کے رسول نمائی کی دعوت کریں اور یہ عاجز حق کی تائید کی غرض سے اس بات کے لئے بھی حاضر ہے کہ میر صاحب رسول نمائی کا عجوبہ بھی دکھلا دیں۔قادیان میں آجائیں۔مسجد موجود ہے اُن کے آنے جانے اور خوراک کا تمام خرچ اِس عاجز کے ذمہ ہوگا اور یہ عاجز تمام ناظرین پر ظاہر کرتا ہے کہ یہ صرف لاف و گزاف ہے اور کچھ نہیں دکھلا سکتے۔اگر آئیں گے تو اپنی پردہ دری کرائیں گے۔عقلمند سوچ سکتے ہیں کہ جس شخص نے بیعت کی مریدوں کے حلقہ میں داخل ہوا اور مدت دس سال سے اس عاجز کو خلیفہ اللہ اور امام اور مجدد کہتا رہا وہ اپنی خواہیں بتلاتا رہا۔کیا وہ اس دعوی میں صادق ہے میر صاحب کی حالت نہایت قابلِ افسوس ہے خدا ان پر رحم کرے۔پیشگویوں کے منتظر رہیں جو ظاہر ہوں گی۔ازالہ اوہام کے صفحہ ۸۵۵ کو دیکھیں ازالہ اوہام کے صفحہ ۶۳۵ اور ۳۹۶ کو بغور مطالعہ کریں اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ء کی پیشگوئی کا انتظار کریں۔جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے۔وَيَسْتَلُوْنَكَ أَحَقُّ هُوَقُلْ إِلَى وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ وَمَا أَنتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ۔زَوَّجْنَاكَهَا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِی وَ اِنْ يَّرَوْا آيَةً يُعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِر۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے کہہ ہاں مجھے اپنے رب کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے نہیں روک سکتے۔ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح باندھ دیا ہے میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے۔اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔جلد سوم