حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 323 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 323

جلد سوم ۳۲۳ − 1) −12-PP-1-YA-\-[1-T-TZ-T-IM-FZ-YA IH-15-17-11-11-32-pe-pa-1-1-- 11-(2-T-| - 15-04-1-----17--11--15 - - حیات احمد وَالسَّلَامُ عَلَى مَنْ فَهِمَ أَسْرَارَ نَا وَاتَّبَعَ الْهُدَى - النَّاصِحُ الْمُشْفِق خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۱ء آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۴۳ تا ۳۵۰) اس طرح پر یہ سال ۱۸۹۱ء بے حد مصروفیت اور مختلف قسم کے مناظرات و مباحثات کے ساتھ ختم ہوا۔لیکن ہر میدان میں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت نمایاں رہی اور باوجود مخالفت شدید کے سعید روحیں سلسلہ میں داخل ہوتی رہیں يَوْمًا فَيَوْمًا ترقی کے آثار ہر شخص کو نظر آنے لگے۔وَلِلَّهِ الْحَمْد ڈاکٹر جگن ناتھ جمونی کا مطالبہ نشانِ آسمانی ۱۸۹۱ء کے اوائل کا ایک مشہور واقعہ لکھ کر ۱۸۹۱ء کے حالات کو ختم کر دیتا ہوں۔اگر چہ ترتیب کے لحاظ سے یہ پہلی سہ ماہی میں آنا چاہئے تھا مگر دوسرے اہم حالات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا اس لئے اسے متاخر کر دیا گیا۔ڈاکٹر جگن ناتھ جموں کے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں ملازم تھے اور حضرت حکیم الامت سے تعلقات اور بے تکلفی تھی اور صداقت اسلام پر دلائل کے علاوہ زندہ نشانات کا اظہار بھی حضرت حکیم الامت کرتے تھے اور اس خصوص میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود کو پیش کیا۔اس پر ڈاکٹر جگن ناتھ آمادہ ہو گیا کہ مجھے کوئی نشان دکھایا جاوے حضرت حکیم الامت نے حضرت کے حضور عرض کیا۔