حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 321 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 321

حیات احمد ۳۲۱ اس کے عرش کی تجلی دکھا دیتا ہے۔پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے۔اب جبکہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلعم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر مطمئن کیونکر ہوں کہ وہ زیارت در حقیقت آنحضرت صلعم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے پس اس زمانہ کے لوگوں کے لئے زیارت حقہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علامات خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے اُس رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے۔مثلاً رسول اللہ صلعم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلا دیں یا بعض قضا و قدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کر دیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلا دیں جو پہلے قلمبنداور شایع نہیں ہو چکے تو بلاشبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی ورنہ اگر ایک شخص دعوی کرے جو رسول اللہ صلعم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بے شک کا فر اور دجال ہے اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلعم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اس خواب بین نے چالا کی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنالی ہے۔سو اگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلعم اُن کی خواب میں آ جاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھاویں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کر دیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بپایہ ثبوت پہنچا دیں کہ در حقیقت انہوں نے آنحضرت صلعم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کر لیں گے۔اور اگر انہیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اس سید ھے طور سے مقابلہ کریں۔جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے ہمیں بِالْفِعْل اُن کی رسول بینی میں ہی کلام ہے چہ جائیکہ کہ اُن کی رسول نمائی کے دعوی کو قبول کیا جائے۔پہلا مرتبہ جلد سوم