حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 313 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 313

حیات احمد ۳۱۳ والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۳ / دسمبر ۱۸۹۱ء جلد سوم مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۸۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) غرض یہ جلسہ نہایت اخلاص اور صحیح جذبات حق کے رنگ میں مقررہ تاریخوں پر ہوا۔اور جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے یہ بنیادی جلسہ ایک دائمی جلسہ کا آغاز بنا جواب تک ان تاریخوں پر ہوتا ہے اور جہاں اس جلسہ میں انٹی کے قریب شریک ہوئے آج سینکڑوں آدمیوں قریب۔کی ضرورت جلسہ میں ہزاروں شریک ہونے والوں کی خدمت کے لئے ہوتی ہے اور متعدد محکمے انتظام کے لئے ہوتے ہیں۔شریک ہونے والوں کی تعداد نصف لاکھ تک جا پہنچی ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ میر عباس علی کا ارتداد یہ سال نہایت مصروفیت اور معرکہ کا سال تھا آپ کو عام مجلس میں معترضین کے سوالات کا جواب دینے کے علاوہ مباحثات بھی کرنے پڑے اور جیسا کہ واقعات سے ظاہر ہے ہر میدان میں نصرت الہی کا کھلا کھلا ظہور ہوا۔سال کے آخر میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا۔جو سابقہ تعلقات کی بناء پر رنجدہ تھا۔اور وہ میر عباس علی صاحب کا ارتداد تھا۔الہی سلسلوں کے ساتھ اس قسم کے واقعات کا لزوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی کو ٹھوکر لگی۔میر عباس علی صاحب سابقون الاولون میں سے تھے اور انہوں نے اس ابتدائی عہد میں اپنے اخلاص اور خدمات کا جو نمونہ دکھایا وہ قابلِ رشک ہے۔لیکن افسوس ان کا انجام اچھا نہ ہوا۔حضرت اقدس کی زندگی عجائبات الہیہ کا ایک نمونہ ہے۔ابتدا میں بعض لوگ جو بڑے معاونین میں سے تھے آخر میں ٹھوکر کھا گئے اور یہ اس لئے ہوا تاکہ یہ ثابت ہو جائے کہ یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ ہے۔کسی انسان کی عقل و دانش یا مالی امداد و مساعی پر موقوف نہیں۔غرض میر عباس علی صاحب مرتد ہو گئے۔اور انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی ایک حربہ ہاتھ آیا۔مگر جب اللہ کے شیر نے