حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 314 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 314

حیات احمد ۳۱۴ جلد سوم یکا را تو کسی کو کبھی جرأت مقابلہ نہ ہوئی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے بھی بڑے طمطراق سے ان کا ذکر کیا تو حضرت نے لکھا یا صوفی خویش را برون آر یا تو بہ کن ز بدگمانی * میر عباس علی صاحب کے متعلق حضرت نے ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۱ء کو یعنی ایام جلسہ میں ذیل کا اعلان شائع کیا۔میر عباس علی صاحب لدھانوی چوبشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است سخن شناس نہء دلبرا خطا اینجا اس سے یہ میر صاحب وہی حضرت ہیں جن کا ذکر بالخیر میں نے ازالہ اوہام کے صفحہ ۷۹۰ میں بیعت کرنے والوں کی جماعت میں لکھا ہے افسوس کہ وہ بعض موسوسین کی وسوسہ اندازی سے سخت لغزش میں آ گئے بلکہ جماعت اعدا میں داخل ہو گئے۔بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اُن کی نسبت تو الہام ہوا تھا کہ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ اس کا یہ جواب ہے کہ الہام کے صرف اس قدر معنی ہیں کہ اصل اُس کا ثابت ہے اور آسمان میں اس کی شاخ ہے اس میں تصریح نہیں ہے کہ وہ باعتبار اپنی اصل فطرت کے کس بات پر ثابت ہیں بلا شبہ یہ بات ماننے کے لایق ہے کہ انسان میں کوئی نہ کوئی فطرتی خوبی ہوتی ہے جس پر وہ ہمیشہ ثابت اور مستقل رہتا ہے اور اگر ایک کافر کفر سے اسلام کی طرف انتقال کرے تو وہ فطرتی خوبی ساتھ ہی لاتا ہے اور اگر پھر اسلام سے کفر کی طرف انتقال کرے تو اُس خوبی کو ساتھ ہی لے جاتا ہے کیونکہ فطرت اللہ اور خلق اللہ میں تبدل اور تغیر نہیں افراد نوع انسان مختلف طور کی کانوں کی طرح ہیں۔کوئی سونے کی کان کوئی چاندی کی کان، کوئی پیتل کی کان۔پس اگر اس الہام میں میر صاحب کی کسی فطرتی خوبی کا ذکر ہو جو غیر متبدل ہو تو کچھ عجب نہیں اور ا ترجمہ۔یا تو اپنے صوفی کو باہر نکال یا پھر بد گمانی سے تو بہ کر۔ے ترجمہ۔جب تو دل والوں کی کوئی بات سنے تو مت کہ اٹھ کہ غلط ہے، اے عزیز ! تو بات نہیں سمجھ سکتا غلطی تو یہی ہے۔