حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 312
حیات احمد جلد سوم چونکہ یہ پہلا جلسہ تھا اس لئے آپ نے متعدد مخلص احباب کو خود خطوط لکھ کر دعوت دی۔اس جلسہ کا مقصد علماء مکذبین کے ساتھ فیصلہ کہ تجویز تھی اور یہ آسمانی فیصلہ کی صورت میں شائع ہوا چنانچہ آپ نے ۲۳ / دسمبر ۱۸۹۱ء کو مکرم حضرت چود ہری رستم علی صاحب رضی اللہ عنہ کولکھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مشفقی مکرمی۔اخویم منشی رستم علی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ بَرَكَاتُهُ چونکہ ۲۷/ دسمبر ۱۸۹۱ء کو قادیان میں علماء مکد بین کے فیصلہ کے لئے ایک جلسہ ہو گا۔انشاء اللہ القدیر۔کثیر احباب اس جلسہ میں حاضر ہوں گے لہذا مکلف ہوں کہ آپ بھی براہ عنایت ضرور تشریف لاویں آتے ہوئے چار آنے کے پان ضرور لیتے آویں۔زیادہ خیر ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد از قادیان مکتوبات احمد جلد دوم صفحه ۵۸۵ مطبوعه ۲۰۰۸ء) حضرت چودہری رستم علی صاحب ان خوش قسمت بزرگوں میں سے ہیں جن کو بعض خاص خدمات کا موقعہ ملا۔اس جلسہ کے لئے فرش وغیرہ کا انتظام انہوں نے ہی کیا۔اور بشیر اول کے عقیقہ کے جلسہ کا انتظام بھی ان کے ہی حصہ میں آیا۔چنانچہ اس خصوص میں حضرت نے ان کو ۲۳؍ دسمبر ۱۸۹۱ء کولکھا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی صاحب سَلَّمَهُ تَعَالَى السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ضرور دو بڑی شطرنجی اور ایک قالین ساتھ لاویں۔۲۵/ دسمبر ۱۸۹۱ء تک ضرور آجاویں۔