حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 307
حیات احمد ۳۰۷ انجمن اس بات کا حلفاً اقرار کر لے گی کہ اس وقت سے پہلے کہ فریقین کے موازنہ کے لئے ان امور کا جلسہ عام میں افشا ہو ہرگز کوئی امرکسی اجنبی کے کانوں تک نہیں پہنچایا جائے گا۔بجز اس صورت کے کہ کسی راز کا فاش ہونا انجمن کے حد اختیار سے باہر ہو اور علامت سوم یعنی قبولیت دعا کی آزمائش کا طریق یہ ہوگا کہ وہی انجمن مختلف قسم کے مصیبت رسیدوں کو بہم پہنچانے کے لئے جس میں ہر ایک مذہب کا آدمی شامل ہو سکتا ہے ایک عام اشتہار دے دی گی اور ہر ایک مذہب کا آدمی خواہ وہ مسلمان ہو خواہ عیسائی یا ہندو ہو یا یہودی ہو غرض کسی مذہب یا کسی رائے کا پابند ہو اگر وہ کسی عظیم الشان مصیبت میں مبتلا ہو اور اپنے نفس کو مصیبت زدوں کے گروہ میں پیش کرے تو بلا تمیز و تفرقہ قبول کیا جائے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ نے جسمانی دنیوی فوائد کے پہنچانے میں اپنے اپنے مختلف المذاہب بندوں میں کوئی تمیز اور تفرقہ قائم نہیں رکھا اور مصیبت زدوں کی فراہمی کے لئے ایک ماہ تک یا جیسے انجمن مناسب سمجھے یہ انتظام رہے گا کہ اُن کے نام کے پرچے معہ ولدیت و سکونت وغیرہ کے ایک صندوق میں جمع ہوتے رہیں بعد اس کے ان کے اسم وار دو فردین برعایت اعتدال اور بقید ولدیت و قومیت و سکونت و مذهب و پیشه و تصریح بلاء پیش آمدہ مرتب کر کے فریقین کے سامنے معہ ان مصیبت رسیدوں کے پیش کریں گے اور فریقین ان مصیبت رسیدوں کا ملاحظہ کر کے ان دونوں فردوں کو بذریعہ قرعہ اندازی کے باہم تقسیم کر لیں گے اور اگر کوئی مصیبت زدہ کسی دور دراز ملک میں ہو اور بوجہ بُعدِ مسافت و عدم مقدرت حاضر نہ ہو سکے تو ایک شاخ انجمن اُس شہر میں مقرر ہو کر جہاں وہ مصیبت زدہ رہتا ہے اُس کے پرچہ مصیبت کو صدرانجمن میں پہنچا دیں گی اور بعد قرعہ اندازی کے ہر ایک فریق کے حصہ میں جو فرد آئے گی اس فرد میں جو مصیبت رسیدہ مُندرج ہوں گے وہ اُسی فریق کے حصہ کے سمجھے جائیں گے جس کو خدائے تعالیٰ نے قرعہ اندازی کے ذریعہ سے یہ فرد دے دی اور واجب ہوگا کہ انجمن مصیبت رسید وں کی جلد سوم