حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 306
حیات احمد ۳۰۶ کے تو وہی رُکن اول ہیں اور ان کے ساتھ ہر ایک ایسا شخص بھی شامل ہوسکتا ہے جو نامی اور مشاہیر صوفیوں اور پیرزادوں اور سجادہ نشینوں میں سے ہو اور انہیں حضرات علماء کی طرح اس عاجز کو کافر اور مفتری اور کذاب اور مکار سمجھتا ہو اور اگر یہ سب کے سب مقابلہ سے منہ پھیر لیں اور کچے عذروں اور نامعقول بہانوں سے میری اس دعوت کے قبول کرنے سے منحرف ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کی حجت اُن پر تمام ہے۔میں مامور ہوں اور فتح کی مجھے بشارت دی گئی ہے لہذا میں حضرات مذکورہ بالا کو مقابلہ کے لئے بلاتا ہوں کوئی ہے جو میرے سامنے آوے؟ اور مقابلہ کے لئے احسن انتظام یہ ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے اس امتحان کی غرض سے ایک انجمن مقرر کی جائے۔اگر فریق مخالف اس تجویز کو پسند کرے تو انجمن کے ممبر بتراضی ، فریقین مقرر کئے جائیں گے اور اختلاف کے وقت کثرت رائے کا لحاظ رہے گا۔اور مناسب ہوگا کہ چاروں علامتوں کی پورے طور پر آزمائش کے لئے فریقین ایک سال تک انجمن میں بقید تاریخ اپنی تحریرات بھیجتے رہیں اور انجمن کی طرف سے بقید تاریخ و به تفصیل مضمون تحریرات موصول شدہ کی رسیدیں فریقین کو بھیجی جائیں گی۔علامت اول یعنی بشارتوں کی آزمائش کا طریق یہ ہوگا کہ فریقین پر جو کچھ منجانب اللہ بطریق الہام و کشف وغیرہ ظاہر ہو وہ امر بقید تاریخ و به ثبت شهادت چارکس از مسلمانان پیش از وقوع انجمن کی خدمت میں پہنچا دیا جائے اور انجمن اپنے رجسٹر میں بقید تاریخ اس کو درج کرے اور اس پر تمام ارکان انجمن یا کم سے کم پانچ ممبروں کے دستخط ہوکر پھر ایک رسید اس کی فریسندہ کو حسب تصریح مذکور بھیجی جائے اور اس بشارت کے صدق یا کذب کا انتظار کیا جائے اور کسی نتیجہ کے ظہور کے وقت اس کی یادداشت معہ اس کے ثبوت کے رجسٹر میں لکھی جاوے اور بدستور ممبروں کی گواہیاں اس پر ثبت ہوں اور دوسری علامت کی نسبت بھی جو حوادث و نوازل دنیا کے متعلق ہے یہی انتظام مرعی رہے گا۔اور یادر ہے کہ انجمن کے پاس یہ سب اسرار بطور امانت محفوظ رہیں گے۔اور جلد سوم