حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 28
حیات احمد ۲۸ جلد سوم منشی احمد جان مرحوم کے متعلق اب میں تھوڑا سا حال منشی احمد جان صاحب کا سناتا ہوں منشی صاحب مرحوم اصل میں متوطن ނ دہلی کے تھے۔شائد ایام مفسدہ ۱۸۵۷ء میں لو دیا نہ آ کر آباد ہوئے۔کئی دفعہ میری ان۔ملاقات ہوئی نہایت بزرگوار ، خوبصورت، خوب سیرت، صاف باطن، متقی با خدا اور متوکل آدمی ۲۵ تھے مجھ سے اس قدر دوستی اور محبت کرتے تھے کہ اکثر ان کے مریدوں نے اشارتاً اور صراحتاً بھی سمجھایا کہ آپ کی اس میں کسر شان ہے مگر انہوں نے ان کو صاف جواب دیا کہ مجھے کسی شان سے غرض نہیں اور نہ مجھے مریدوں سے کچھ غرض ہے۔اس پر بعض نالائق خلیفے ان سے منحرف بھی ہو گئے مگر انہوں نے جس اخلاص اور محبت پر قدم مارا تھا اخیر تک نبھایا۔اور اپنی اولا دکو بھی یہی نصیحت کی۔جب تک زندہ رہے خدمت کرتے رہے اور دوسرے تیسرے مہینے کسی قدر روپے اپنے رزق خداداد سے مجھے بھیجتے رہے اور میرے نام کی اشاعت کے لئے بدل وجان ساعی رہے۔اور پھر حج کی تیاری کی اور جیسا کہ انہوں نے اپنے ذمہ مقلد رکر رکھا تھا، جاتے وقت بھی پچیس روپے بھیجے۔اور ایک بڑا لمبا دردناک خط لکھا جس کے پڑھنے سے رونا آتا تھا۔اور حج سے آتے وقت راہ میں ہی بیمار ہو گئے اور گھر آتے ہی فوت ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اس میں کچھ شک نہیں کہ منشی صاحب علاوہ اپنی ظاہری علمیت وخوش تقریری دوجاہت کے جو خدا داد انہیں حاصل تھیں۔مومن صادق اور صالح آدمی تھے جو دنیا میں کم پائے جاتے ہیں۔چونکہ وہ عالی خیال اور صوفی تھے اس لیے ان میں تعصب نہیں تھا۔میری نسبت وہ خوب جانتے تھے کہ یہ حفی تقلید پر قائم نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ خیال انہیں محبت و اخلاص سے نہیں روکتا تھا غرض کچھ مختصر حال منشی احمد جان صاحب مرحوم کا یہ ہے۔اور لڑکی کا بھائی صاحبزادہ افتخار احمد صاحب بھی نوجوان صالح ہے جو اپنے والد مرحوم کے ساتھ حج بھی کر ، آئے ہیں اب دو باتیں تدبیر طلب ہیں۔