حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 27 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 27

حیات احمد ۲۷ جلد سوم ہوشیار ہو جائیں کہ انہیں اموال سے قوام معیشت ہے اور دینی ضروریات کے وقت بھی موجب ثواب عظیم ہو جاتے ہیں سوجیسا کہ آپ نے عہد کر لیا ہے کسی حالت میں ٹکٹ سے زیادہ خرچ نہ کریں۔“ مکتوبات احمد یہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۵۷،۵۶ مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۶۱ ۶۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اس سلسلہ میں خط و کتابت ہوتی رہی بالآخر جنوری ۱۸۸۹ء میں اس کی تحریک حضرت صوفی منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ صغری بیگم صاحبہ کیلئے کی گئی جیسا کہ ذیل کے مکتوب سے ظاہر ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ہر دو عنایت نامے پہنچ گئے۔خدائے قادر ذوالجلال آپ کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے ارادات خیر میں مدد دیوے۔اس عاجز نے آں مخدوم کے نکاح ثانی کی تجویز کیلئے کئی جگہ خط روانہ کئے تھے ایک جگہ سے جو جواب آیا ہے وہ کسی قدرحسب مراد معلوم ہوتا ہے یعنی میر عباس علی شاہ صاحب کا خط جو روانہ خدمت کرتا ہوں۔اس خط میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں۔غیر مقلد نہ ہوں چونکہ میر صاحب بھی حنفی اور میرے مخلص دوست منشی احمد جان صاحب ( خدا تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے) جن کی بابرکت لڑکی سے یہ تجویز در پیش ہے۔پکے حنفی تھے اور اُن کے مرید بھی جو اس علاقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں حنفی ہیں اس لئے حنفیت کی قید بھی لگا دی گئی یوں تو حَنِيفًا مُسْلِمًا میں سب مسلمان داخل ہیں لیکن اس قید کا جواب بھی معقولیت سے دیا جائے تو بہتر ہے۔