حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 305 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 305

حیات احمد ۳۰۵ اور اُس کے غیر کے آزمانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہ ہوگا کہ بذریعہ مقابلہ ان دونوں کو جانچا اور پر کھا جاوے یعنی اگر یہ امر لوگوں کی نظر میں مشتبہ ہو کہ دو شخصوں میں سے کون عند اللہ مومن کامل اور کون اس درجہ سے گرا ہوا ہے تو انہیں چاروں علامتوں کے ساتھ مقابلہ ہونا چاہئے۔یعنی ان چاروں علامتوں کو محک اور معیار ٹھہرا کر مقابلہ کے وقت دیکھا جاوے کہ اس معیار اور ترازو کی رو سے کون شخص پورا اترا ہے اور کس کی حالت میں کمی اور نقصان ہے۔اب خلق اللہ گواہ رہے کہ میں خالصاً للہ اور اظہاراً للحق اس مقابلہ کو بدل و جان منظور کرتا ہوں اور مقابلہ کے لئے جو صاحب میرے سامنے آنا چاہئیں اُن میں سے سب سے اول نمبر میاں نذیر حسین دہلوی کا ہے جنہوں نے پچاس سال سے زیادہ قرآن اور حدیث پڑھا کر پھر اپنے علم اور عمل کا یہ نمونہ دکھایا کہ بلاتفتیش و تحقیق اس عاجز کے کفر پر فتویٰ لکھ دیا اور ہزار ر ہا ؤحشی طبع لوگوں کو بدظن کر کے اُن سے گندی گالیاں دلائیں اور بٹالوی کو ایک مجنوں درندہ کی طرح تکفیر اور لعنت کی جھاگ منہ سے نکالنے کے لئے چھوڑ دیا اور آپ مومن کامل اور شیخ الکل اور شیخ العرب والعجم بن بیٹھے لہذا مقابلہ کے لئے سب سے اول انہیں کو دعوت کی جاتی ہے۔ہاں ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے ساتھ بٹالوی کو بھی کہ اب تو خواب بینی کا بھی دعویٰ رکھتا ہے ملا لیں بلکہ ان کو میری طرف سے اختیار ہے کہ وہ مولوی عبدالجبار صاحب خلف عبد صالح مولوی عبد اللہ صاحب مرحوم اور نیز مولوی عبد الرحمن لکھو والے کو جو میری نسبت ابدی گمراہ ہونے کا الہام مشتہر کر چکے ہیں اور کفر کا فتویٰ دے چکے ہیں اور نیز مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کو جو ان کے متبعین میں سے ہیں اس مقابلہ میں اپنے ساتھ ملا لیں اور اگر میاں صاحب موصوف اپنے عادت کے موافق گریز کر جائیں تو یہی حضرات مذکورہ بالا میرے سامنے آویں اور اگر یہ سب گریز اختیار کریں تو پھر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اس کام کے لئے ہمت کریں کیونکہ مقلدوں کی پارٹی جلد سوم