حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 304 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 304

حیات احمد ۳۰۴ ایک حادثہ زمانہ سے اُس کو اطلاع دی جائے اور نہ یہ کہ ہر وقت معارف قرآنی اُس پر کھلتے رہیں لیکن غیر کے مقابلہ کے وقت ان چاروں علامتوں میں کثرت مومن ہی کی طرف رہتی ہے اگر چہ ممکن ہے کہ غیر کو بھی مثلاً جو مومن ناقص ہے شاذ و نادر کے طور پر ان نعمتوں سے کچھ حصہ دیا جاوے مگر اصلی وارث ان نعمتوں کا مومن کامل ہی ہوتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ یہ مرتبہ کاملہ مومن کا بغیر مقابلہ کے ہر ایک بلید ونجمی اور کوتاہ نظر پر کھل نہیں سکتا۔لہذا نہایت صاف اور سہل طریق حقیقی اور کامل مومن کی شناخت کے لئے مقابلہ ہی ہے کیونکہ اگر چہ یہ تمام علامات بطور خود بھی مومن کامل سے صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن یکطرفہ طور پر بعض وقتیں بھی ہیں مثلاً بسا اوقات مومن کامل کی خدمت میں دعا کرانے کے لئے ایسے لوگ بھی آ جاتے ہیں جن کی تقدیر میں قطعاً کا میابی نہیں ہوتی اور قلم ازل مبرم طور پر اُن کے مخالف چلی ہوئی ہوتی ہے سو وہ لوگ اپنی ناکامی کی وجہ سے مومن کامل کی اس علامت قبولیت کو شناخت نہیں کر سکتے بلکہ اور بھی شک میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے محروم رہنے کی وجہ سے مومن کامل کے کمالاتِ قبولیت پر مطلع نہیں ہو سکتے اور اگر چہ مومن کامل کا خدائے تعالیٰ کے نزدیک بڑا درجہ اور مرتبہ ہوتا ہے اور اُس کی خاطر سے اور اس کی تضرع اور دعا سے بڑے بڑے پیچیدہ کام درست کئے جاتے ہیں اور بعض ایسی تقدیریں جو تقدیر مبرم کے مشابہ ہوں بدلا ئی بھی جاتی ہیں مگر جو تقدیر حقیقی اور واقعی طور پر مبرم ہے وہ مومن کامل کی دعاؤں سے ہرگز بدلا ئی نہیں جاتی۔اگر چہ وہ مومن کامل نبی یا رسول کا ہی درجہ رکھتا ہو۔غرض نسبتی طور پر مومن کامل ان چاروں علامتوں میں اپنے غیر سے بہ بداہت ممیز ہوتا ہے اگر چہ دائمی طور پر قادر اور کامیاب نہیں ہوسکتا۔پس جب کہ یہ امر ثابت ہو چکا کہ نسبتی طور پر حقیقی اور کامل مومن کو کثرت بشارات اور کثرتِ استجابت دعا اور کثرتِ انکشاف مغیبات اور کثرت انکشاف معارف قرآنی سے وافر حصہ ہے تو مومن کامل جلد سوم