حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 26
حیات احمد ۲۶ پھر کس لئے ڈاکٹروں کی طرف التجا کی گئی شاید بعض ضعف وغیرہ کے لحاظ سے بطور دوراندیشی مناسب سمجھا گیا ہو میری دانست میں جہاں تک ممکن ہے آپ زیادہ ہم وغم سے پر ہیز کریں کہ اس سے ضعف بڑھتا ہے اور نہایت سرور بخشنے والی یہ آیت مبارکہ ہے اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ * میرے نزدیک یہ امر نہایت ضروری ہے کہ آپ نکاح ثانی کے امر کو سرسری نگاہ سے نہ دیکھیں بلکہ اس کو کسل وحزن کے دور کرنے کے لئے ضروری خیال کریں اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں سے امید ہے کہ آپ کو نکاح ثانی سے اولاد صالح بخشے۔میرا اس طرف زیادہ خیال نہیں ہے کہ تعلیم یافتہ بیوی یا عقیلہ کوئی اہلیہ پڑھی ہوئی ملے۔میں یقین کرتا ہوں کہ اگر مرد ہو یا عورت مگر پاکیزہ ذہن اور فطرت سے عمدہ استعداد رکھتا ہو تو امنیت اس کیلئے کوئی بڑا سد راہ نہیں ہے۔جلدی صحت سے ضرویات دین ودنیا سے خبر دار ہو سکتا ہے۔ضروری یہ امر ہے کہ عقیلہ ہو اور حسن ظاہری بھی رکھتی ہو۔تا اس سے موافقت و محبت پیدا ہو جاوے۔آپ اس محل زیر نظر میں اس شرط کی اچھی طرح تفتیش کر لیں اگر حسب دلخواہ نکل آوے تو الحمد للہ ورنہ دوسرے مواضع میں تمام تر جد و جہد سے تلاش کرنا شروع کیا جائے۔بندہ کی طرف سے صرف کوشش ہے اور مطلوب کو میسر کر دینا قادر مطلق کا کام ہے۔بہر حال اس عالم اسباب میں جد و جہد پر نیک ثمرات مل جاتے ہیں۔میں نے اب تک کسی دوست کی طرف سے اس تلاش کے لئے نہیں لکھا کیونکہ ابھی تک آپ کی طرف سے قطعی اور یک طرفہ رائے مجھ کو نہیں ملی اس لئے مکلف ہوں که درمیانی خیالات کا جلد تصفیہ کر کے اگر جدید تلاش کی ضرورت پیش آوے تو مجھے اطلاع بخشیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی لکھا تھا۔آپ اپنے مصارف کی نسبت البقرة: ١٠٧ جلد سوم