حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 25
حیات احمد ۲۵ اگر یہی صورت ہو تو بماہ فروری کار و بار شادی بخیر و عافیت اہتمام پذیر ہونا چاہئے۔“ جلد سوم مکتوبات احمد جلد ۲ صفحه ۸۱ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) لیکن بعد میں حضرت حکیم الامت کو وہ معذوری نہ رہی اور آپ بیعت کے موقعہ پر لود یا نہ پہنچ گئے جیسا کہ آگے ذکر آتا ہے۔حضرت حکیم الامت کی شادی حضرت حکیم الامت کی دوسری شادی کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریک کر رہے تھے اور اس کیلئے مختلف دوستوں کو آپ نے خطوط لکھے تھے ان میں سے میر عباس علی صاحب نے جو تحریک کی حضرت نے اُسے پسند فرمایا یہ تحریک حضرت منشی احمد جان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی صغری بیگم صاحبہ ( مَتَّعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا ) کے رشتہ کی تھی حضرت نے اسے پسند فرمایا اور بالآخر یہ رشتہ مستحکم ہو گیا۔تحریک دوسری شادی کی تو اواخر ۷ ۱۸۸ء سے ہی ہو رہی تھی مگر مناسب رشتہ کا فیصلہ اوائل ۱۸۸۹ء میں جا کر ہوا۔ابتدائی تحریک کے متعلق آپ کے مکتوبات ۲۹ فروری ۱۸۸۸ء سے پتہ لگتا ہے۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکر می اخویم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ عین انتظار میں پہنچا۔ابھی وہ خط میں نے نہیں کھولا تھا کہ بابو الہی بخش صاحب کے کارڈ کے پڑھنے سے کہ جو ساتھ ہی اسی ڈاک میں آیا تھا نہایت تشویش ہوئی کیونکہ اس میں لکھا تھا کہ آپ لاہور میں علاج کروانے کیلئے تشریف لے گئے تھے اور ڈاکٹروں نے کہا کہ کم از کم پندرہ دن تک سب ڈاکٹر مل کر معائنہ کریں تو حقیقت مرض معلوم ہو۔مگر آپ کے خط کے کھولنے سے کسی قدر رفع اضطراب ہوا۔مگر تا ہم تر ڈر باقی ہے کہ مرض تو بکلی رفع ہو گئی تھی صرف ضعف باقی تھا