حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 279 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 279

حیات احمد ۲۷۹ جلد سوم سو دین کے کام میں مارکھانا گالیاں سننا تو سنت انبیاء و اولیاء ہے۔اور جو مار بھی ڈالیں گے تو شہادت پاؤ گے۔آخر کتنے روز جینا ہے ایک روز مرنا ہے۔فرمایا صحابہ رضی اللہ عنہم کی حالت کو نہیں دیکھتے نہ انہوں نے جان کو عزیز رکھا اور نہ مال و دولت سے پیار کیا۔نہ عزیز و اقارب سے رشتہ رکھا اور نہ گھر بار کی طرف رخ کیا صرف خدا تعالیٰ سے رشتہ تعلق رکھا اور نہ اولاد پیاری ہوئی اپنے نبی اپنے پیشوا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلّم کا وہ ساتھ دیا اور وہ حق اطاعت و فرمان برداری بجا لائے کہ جو حق تھا۔اور آج کل تو گورنمنٹ برطانیہ کی وہ پُر شوکت وسطوت سلطنت ہے کہ کسی چیز کا خطرہ نہیں دین کو دنیا پر مقدم رکھنا چاہئے یہ زندگی کیا چیز ہے کچھ بھی چیز نہیں۔اکمل صاحب نے خوب فرمایا خدا ان کو جزائے خیر دے سے ایک وہ دن تھے کہ جان قربان کرنی پڑتی تھی اب تو دین حق میں ایسا امتحان کچھ بھی نہیں زندگی وہ زندگی ہے جو ہمیشہ اور ابدی زندگی ہے۔اس کا فکر کرنا چاہئے۔یہ زندگی خواب کی مثال ہے اور وہ دوسری زندگی واقعی اور حقیقی زندگی ہے جو ابدی ہے۔اس زندگی کی مثال بیداری کی مثال ہے۔بس یہ ہے کہ آنکھ کھل گئی دیکھو ایک شخص سوتا ہے اور خواب میں اپنے محبوب یا دینار و درہم کو دیکھ رہا ہے یہ دیکھنا کچھ حقیقت نہیں رکھتا حقیقت وہ ہے کہ آنکھ کھل گئی اور واقعی دینار و درہم کو پالیا اور معشوق سے بغل گیر ہو گیا۔اس حالت میں انسان خواب کی سی حقیقت رکھتا ہے اور وہ عالم عالم بیداری ہے کہ جو کچھ غیب میں بتلایا گیا تھا اور غیب پر ایمان لایا تھا۔وہ اب مشاہدہ میں آگیا۔ان دونوں زندگیوں کا ایک درمیانی مقام ہے اور ہر ایک دو چیزوں میں ایک برزخ ہوتا ہے۔جیسا کہ انسان و حیوان میں بندر برزخ ہے کہ کچھ حصہ انسانیت کا رکھتا ہے اور کچھ حیوانیت کا سووہ مرسلوں کی صحبت و بیعت سے حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اُس عالم ہی میں اس عالم کو لیتا م مشاہدہ کر لیتا ہے اور اس عالم کے حالات اس پر منکشف ہو جاتے ہیں۔پھر فرمایا، یاد رکھو ایک حالت ایمانی ہے اور دوسری عرفانی حالت ہے۔مردان خدا اور مقبولانِ خدا کی بیعت سے یہی