حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 278
حیات احمد ۲۷۸ جلد سوم 66 ہیں؟ میں نے کہا ” بزرگ را بزرگ وولی را ولی می شناسد “۔کہنے لگا کہ آپ نے مرزا جی کو کیسے بزرگ جانا؟ میں نے کہا اسی طرح جانا کہ جس طرح تم نے مجھے بزرگ اور میرے آباؤ اجداد کو بزرگ مانا۔کہنے لگا آپ کے بزرگوں نے تو کرامتیں دکھائی ہیں۔میں نے کہا حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی کرامتیں دکھائی ہیں کہنے لگا ایسی کرامتیں تو میں بھی دکھا سکتا ہوں۔میں نے کہا دکھاؤ۔یہ کہہ کر میں نے ایک زور سے اُس کہ منہ پر طمانچہ مارا کہ اس کا منہ پھر گیا۔میں نے کہا اب کرامت دکھاؤ۔پھر میں نے دوسرا تھپڑ اٹھایا۔بس پناہ مانگنے لگا اور تو بہ کرنے لگا بعض طبائع ایسی ہی ہوتی ہیں کہ وہ بغیر زدو کوب مانتی نہیں۔یہی فلاسفی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جہاد کی تھی۔فَافْهَمْ۔دہلی والوں کی ایک نہایت ذلیل حرکت اس قسم کی حرکات کے علاوہ ایک یہ فیصلہ علماء سوء نے کیا کہ حضرت اقدس کو اگر کسی کتاب کی ضرورت پیش آئے تو کوئی کتاب فروش کسی قیمت پر نہ دے اور نہ کوئی کتب خانہ والا ان کو کتاب دے۔تحقیق حق کا مطالبہ تو یہ ہے کہ فریق مخالف کو ہر قسم کی آسانی اپنے خیالات کے اظہار کے لئے دی جائے اور یہ گویا علماء دہلی کی اپنی شکست پر آخری مہر تھی مگر اللہ تعالیٰ حق کا حامی ہوتا ہے۔باوجود ان منصوبوں کے اللہ تعالیٰ نے ایسا سامان پیدا کر دیا کہ تمام مطلوبہ کتابیں مل گئیں جیسا کہ صاحبزادہ سراج الحق صاحب نے بیان کیا ہے۔جب مولوی بشیر سے اگلے روز مباحثہ ٹھہرا تو کتابوں کی سخت ضرورت ہوئی پر نہ ملیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے خاکسار کو زنانہ مکان میں بلوایا اور فرمایا۔صاحبزادہ صاحب تمہارے والد اور تمہارے بھائی اور خود تمہارے مرید دہلی میں ہیں۔کسی سے یا کسی کی معرفت کتابیں تو لاؤ۔میں نے عرض کیا کہ میں حضور کے ساتھ ہوں کتابوں کا ملنا محال ہے۔یہ عصر کا وقت تھا۔فرمایا اللہ کے نام پر جاؤ تو سہی بیش ازیں نیست لوگ گالیاں دیں گے ماریں گے۔حمد ترجمہ۔بزرگ کو بزرگ اور ولی کو ولی ہی پہچانتا ہے۔