حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 280
حیات احمد ۲۸۰ جلد سوم فائدہ حاصل و مترتب ہوتا ہے کہ بیعت کنندہ ایمانی حالت سے عرفانی حالت میں پہنچ جاتا ہے۔پھر ہاتھ اٹھا کر میرے لئے دعا کی اور فرمایا جاؤ۔میں نے عرض کیا کہ کسی کو میرے ساتھ کر دیجئے سو حضرت اقدس علیہ السلام نے برادرم جناب منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کو میرے ساتھ کر دیا اتنے میں مغرب کی نماز کا وقت آ گیا اور حضرت اقدس کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی۔بعد نماز مغرب میں اور منشی صاحب چلے راستہ میں ہم دونوں نے مشورہ کیا کہ کہاں چلیں اور کس سے کتا بیں طلب کریں۔منشی صاحب نے فرمایا کہ ہمارے دوست مولوی محمد حسین فقیر کے بیٹے ہیں ان کے پاس چلیں وہ ضرور کتا بیں دے دیں گے۔نعمانی۔منشی صاحب آج کل مولویوں کی إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ عجیب حالت ہے ہے كَمَلْمَسِ افْعِی نَاعِمٌ فِی النَّوَاظِرِ یہ ہمارے سخت دشمن ہیں ان کی دوستی کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔میرا دل گواہی نہیں دیتا۔منشی صاحب ، چلو جی وہ ہمارے دوست جان پہچان مدت کے ہیں۔وہ ضرور کتا بیں دے دیں گے۔نعمانی اچھا چلو میں بھی ان کو خوب جانتا ہوں اور وہ مجھ سے پورے واقف ہیں لیکن بے فَسَتَرْجِعُ حُبَّ الشَّرِيْرِ كَخَاسِرِ آزموده را آزمودن جہل است۔ان کو بھی دیکھ بھال لو۔منشی صاحب، ایک بات خوب یاد آئی۔آؤ پہلے امام جامع مسجد کے پاس چلیں۔انہوں نے مجھ سے چند روز ہوئے کہا تھا کہ اگر کسی کتاب کی ضرورت ہو تو میں دے دوں گا۔مجھ سے لے لینا۔اور کسی کو خبر نہ کرنا۔نعمانی۔اچھا صاحب چلو ان کا وعدہ بھی دیکھ لو۔ہم دونوں امام صاحب کے پاس گئے۔چونکہ مجھ سے واقف تھے اور میرے بڑے بھائی خلیل الرحمن صاحب جب دہلی میں آتے تو باپ بیٹے بڑے ادب سے ارادتمندانہ آیا کرتے تھے اس سبب سے میرا بھی ان سے تعارف تھا۔لیکن دل میں کھٹکا تھا کہ ان کی ارادت اور واقفیت کوئی چیز نہیں اس میں للہیت نہیں ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام فرمایا کرتے تھے اور بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہئے کہ