حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 24
حیات احمد ۲۴ جلد سوم اعلانِ بیعت کا اثر بیعت کیلئے اعلان تو سبز اشتہار ہی کے ذریعہ ہو گیا تھا اور مستعد اور مخلص احباب نے آپ کی خدمت میں اپنے ارادہ بیعت سے بھی اطلاع دے دی تھی اور اس سلسلہ میں خط وکتابت بھی کی مگر وہ خط و کتابت رسمی تھی۔حضرت چودہری رستم علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ نے شرائط بیعت طلب کیں چنانچہ ے جنوری ۱۸۸۹ء کے مکتوب میں آپ نے چود ہری صاحب کو لکھا کہ شرائط بیعت پھر کسی وقت روانہ کرونگا حضرت خلیفتہ اسیج اول رضی اللہ عنہ نے (جو اس وقت صرف مولوی حکیم نور الدین تھے ) تاریخ مقررہ پر بیعت کیلئے حاضر ہونے سے اولاً اظہار معذوری کیا اور شرائط کی پابندی کے متعلق بھی استفسار فرمایا اس کے جواب میں آپ نے ۲۰ فروری ۱۸۸۹ء کو جو خط لکھا اس میں ان استفسار کا مندرجہ ذیل جواب دیا۔شرائط بیعت کی پابندی کی حد مخدومی مکر می اخویم مولوی حکیم نور الدین صاحب سلّمۂ تعالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل کی ڈاک میں عنایت نامہ پہنچا جو کچھ پر چہ تکمیل تبلیغ میں تاریخ لکھی گئی ہے وہ فقط انتظامی امر ہے تا ایسی تقریب میں اگر ممکن ہو تو بعض اخوان مومنین کا بعض سے تعارف ہو جاوے کوئی ضروری امر نہیں ہے آپ کے لئے اجازت ہے کہ جب فرصت ہو اور کسی طرح کا ہرج نہ ہو تو اس رسم کے پورا کرنے کے لئے تشریف لے آویں بلکہ تقریب شادی پر جو آپ تشریف لاویں وہ نہایت عمدہ موقع ہے اور شرائط پر پابند ہونا باعتبار استطاعت ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا الَّا وُسْعَهَا۔دوسرے خط کے جواب سے جلد مطلع فرماویں تالدھیانہ میں اطلاع دی جاوے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ بماہ مارچ کشمیر کی طرف روانہ ہوں۔پس البقرة: ۲۸۷