حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 258
حیات احمد ۲۵۸ جلد سوم آپ کے مکان پر علانیہ اس عاجز کو گالیاں دیا کرے چنانچہ اس نیک بخت کا یہی کام ہے کہ آپ کو تو ہر جگہ شیخ الکل کہہ کر دوسروں کی ہجو ملیح کرتا ہے اور اس عاجز کو جابجا شیطان، دقبال، بے ایمان، کافر کے نام سے یاد کرتا ہے مگر آپ کی درحقیقت یہ گالیاں اُس کی طرف سے نہیں آپ کی طرف سے ہیں۔کیونکہ اگر ذرہ سی بھی دھمکی آپ کی طرف سے ملتی تو وہ دم بخودرہ جا تا بلکہ میں نے سنا ہے کہ آپ اُس شخص کے مخالف نہیں بلکہ ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں اور آپ پر واضح رہے کہ کس قدر درشتی جو اس تحریر میں استعمال کی گئی ہے وہ درحقیقت آپ ہی کے اس شاگر درشید کی مہربانی ہے اور پھر بھی میں نے كَمَا تُدِيْنُ تُدَانُ پر عمل نہیں کیا۔کیونکہ سفہاء کی طرح سب وشتم میری فطرت کے مخالف ہے یہ شیوہ آپ اور آپ کے شاگردوں کے لئے ہی موزوں ہے۔میں بفضلہ تعالیٰ جوش نفس سے محفوظ ہوں۔میرے ہر ایک لفظ کی صحت نیت پر بناء ہے۔آپ کے جگانے کے لئے کسی قدر بلند آواز کی ضرورت پڑی۔ورنہ مجھے آپ لوگوں کی گالیوں پر نظر نہیں۔كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ - وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بالآخر یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی طرح بحث کر نا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جل شانہ کی تین مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زندہ بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور آیات قرآنی اپنی صریح دلالت سے اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ اپنے کھلے کھلے منطوق سے اسی پر شہادت دیتی ہیں۔اور میرا عقیدہ یہی ہے تب میں آپ کی اس گستاخی اور حق پوشی اور بد دیانتی اور جھوٹی گواہی کے فیصلہ کے لئے جناب الہی میں تضرع اور ابتہال کروں گا اور چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہو چکا ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ کے اور مجھے لے جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔سے ہر کوئی اپنے انداز میں کام کرتا ہے (بنی اسرائیل: ۸۵) سے المؤمن: ۶۱