حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 257
حیات احمد ۲۵۷ لئے بلاتا ہوں۔جس جگہ چاہیں حاضر ہو جاؤں مگر تحریری بحث ہو گی تاکسی محترف کو تحریف کی گنجائش نہ ہو۔اور ملک ہند کے تمام اہلِ نظر کو رائے کرنے کے لئے وہی تحریرات یقینی ذریعہ مل جائے۔آپ یقینا یا درکھیں کہ یہ آپ کی جھوٹی خوشی ہے اور یہ آپ کا غلط خیال ہے کہ یقینی اور قطعی طور پر مسیح ابن مریم زنده بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھایا گیا ہے۔جس دن بحث کے لئے آپ میرے سامنے آئیں گے اس دن تمام یہ خوشی ، رنج کے ساتھ مبدل ہو جائے گی۔اور سخت رسوائی سے آپ کو اس قول سے رجوع کرنا پڑے گا کہ در حقیقت آیات بینه صریحہ وقطعیة الدلالت اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ سے حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی زندگی ثابت ہے۔اگر چہ آپ درس قرآن و حدیث میں ریش و بروت سفید کر بیٹھے ہیں مگر حقیقت تک آپ کو کسی استاد نے نہیں پہنچایا اور مغز قال اللہ اور قال الرسول سے دور مہجور و بے نصیب محض ہیں۔آپ کو شرم کرنی چاہئے کہ شیخ الکل ہونے کا دعویٰ اور پھر اس فضیحت کی غلطی کہ آپ یقین رکھتے ہیں کہ ایسی آیات اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ موجود ہیں جن سے مسیح ابن مریم کا زندہ بجسده العنصری آسمان پر جانا ثابت ہوتا ہے۔شاید ایسی حدیثیں آپ کی کوٹھری میں بند ہوں گی جواب تک کسی پر ظاہر نہیں ہوئیں۔اگر آپ کو کچھ شرم ہے تو اب بلا توقف بحث کے لئے میدان میں آجائیں۔تا سیہ روشود ہر کہ در وغش باشد۔اگر آپ اس مسئلہ میں بحث کرنے کے لئے نہ آئے اور مفسد طبع ملانوں پر بھروسہ رکھ کر کوٹھری میں چھپ گئے تو یاد رکھو کہ تمام ہندوستان و پنجاب میں ذلت اور بدنامی کے ساتھ آپ مشہور ہو جائیں گے اور شیخ الکل ہونے کی تمام رونق جاتی رہے گی۔میں متعجب ہوں کہ آپ کس بات کے شیخ الکل ہیں۔قرائن سے اس بات کا یقین آتا ہے کہ آپ نے ہی ایک بد زبان بٹالوی فطرت کے بگڑے ہوئے شیخ کو در پردہ سمجھا رکھا ہے کہ مساجد اور مجالس میں اور نیز تا ہر جھوٹا روسیاہ ہو جائے۔جلد سوم