حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 240 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 240

حیات احمد ۲۴۰ جلد سوم صلی اللہ علیہ وسلّم پر ختم ہوگئی۔آمَنْتُ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَآمَنْتُ بِكِتَابِ اللهِ الْعَظِيْمِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمَ - وَاتَّبَعْتُ أَفْضَلَ رُسُلِ اللهِ وَخَاتَمَ أَنْبِيَاءِ اللهِ مُحَمَّدُ المُصْطَفَى وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ - وَاَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ - رَبِّ أَحْيِنِي مُسْلِمًا وَ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَاحْشُرْنِي فِي عِبَادِكَ الْمُسْلِمِيْنَ وَاَنْتَ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا يَعْلَمُ غَيْرُكَ وَأَنْتَ خَيْرُ الشَّاهِدِینَ۔اس میری تحریر پر ہر ایک شخص گواہ رہے اور خدا وند علیم و سمیع اول الشاہدین ہے کہ میں ان تمام عقائد کو مانتا ہوں۔جن کے ماننے کے بعد ایک کافر بھی مسلمان تسلیم کیا جاتا ہے۔جن پر ایمان لانے سے ایک غیر مذہب کا آدمی بھی معاً مسلمان کہلانے لگتا ہے۔میں ان تمام امور پر ایمان رکھتا ہوں جو قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں درج ہیں اور مجھے مسیح ابن مریم ہونے کا دعویٰ نہیں۔اور نہ میں تناسخ کا قائل ہوں بلکہ مجھے تو فقط مثیل مسیح ہونے کا دعوی ہے جس طرح محدثیت نبوت سے مشابہ ہے۔ایسا ہی میری روحانی حالت مسیح ابن مریم کی روحانی حالت سے اشد درجہ کی مناسبت رکھتی ہے۔غرض میں ایک مسلمان ہوں۔أَيُّهَا الْمُسْلِمُوْنَ أَنَا مِنْكُمْ وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ تَعَالی۔خلاصہ کلام یہ کہ میں محدث اللہ ہوں لا ترجمہ از ناشر۔میں اللہ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور موت کے بعد زندہ کئے جانے پر ایمان لاتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآنِ کریم پر ایمان رکھتا ہوں۔اور میں اللہ کے افضل ترین رسول خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔اور میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اے میرے رب ! مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں زندہ رکھ اور مسلمان ہونے کی حالت میں ہی مجھے وفات دینا اور مجھے مسلمان بندوں میں سے ہی اٹھانا ، تو جانتا ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہے اور تیرے سوا کوئی اور نہیں جانتا اور تو بہترین شاہد ہے۔