حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 239
حیات احمد ۲۳۹ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ ) ایک عاجز مسافر کا اشتہار قابل توجہ جمیع مسلمانان انصاف شعار و حضرات علمائے نامدار اے اخوان مومنین اے برادران سکنائے دہلی و متوطنان این سرزمین !!! بعد سلام مسنون و دعائے درویشانہ۔آپ سب صاحبوں پر واضح ہو کہ اس وقت یہ حقیر غریب الوطن چند ہفتہ کے لئے آپ کے اس شہر میں مقیم ہے اور اس عاجز نے سنا ہے کہ اس شہر کے بعض اکابر علماء میری نسبت یہ الزام مشہور کرتے ہیں کہ یہ شخص نبوت کا مدعی ، ملائک کا منکر ، بہشت و دوزخ کا انکاری اور ایسا ہی وجود جبرائیل اور لیلۃ القدر اور معجزات اور معراج نبوی سے بکلی منکر ہے۔لہذا میں اظہار اللحق عام و خاص اور تمام بزرگوں کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ یہ الزام سراسر افتراء ہے۔میں نہ نبوت کا مدعی ہوں اور نہ معجزات اور ملائک اور لیلۃ القدر وغیرہ سے منکر۔بلکہ میں ان تمام امور کا قائل ہوں جو اسلامی عقائد میں داخل ہیں۔اور جیسا کہ اہلِ سنت جماعت کا عقیدہ ہے۔ان سب باتوں کو مانتا ہوں جو قرآن اور حدیث کی رو سے مسلم الثبوت ہیں۔اور سید نا ومولانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ختم المرسلین کے بعد کسی دوسرے مدعی نبوت اور رسالت کو کاذب اور کافر جانتا ہوں۔میرا یقین ہے کہ وحی رسالت حضرت آدم صفی اللہ سے شروع ہوئی اور جناب رسول اللہ محمد مصطفیٰ الاعراف: ۹۰ جلد سوم