حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 241
حیات احمد ۲۴۱ اور مامور من اللہ ہوں اور با ایں ہمہ مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں جو صدی چہار دہم کے لئے مسیح ابن مریم کی خصلت اور رنگ میں مجد ددین ہو کر رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کی طرف سے آیا ہوں۔میں مفتری نہیں ہوں۔وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى خدا تعالیٰ نے دنیا پر نظر کی اور اس کو ظلمت میں پایا اور مصلحت عباد کے لئے ایک عاجز بندہ کو خاص کر دیا۔کیا تمہیں اس سے کچھ تعجب ہے کہ وعدہ کے موافق صدی کے سر پر ایک مجددبھیجا گیا اور جس نبی کے رنگ میں چاہا خدا تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا۔کیا ضرور نہ تھا کہ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی پوری ہوتی۔بھائیو! میں مصلح ہوں بدعتی نہیں۔اور معاذ اللہ میں کسی بدعت کے پھیلانے کے لئے نہیں آیا۔حق کے اظہار کے لئے آیا ہوں اور ہر ایک بات جس کا اثر اور نشان قرآن اور حدیث میں پایا نہ جائے اور اس کے برخلاف ہو وہ میرے نزدیک الحاد اور بے ایمانی ہے۔مگر ایسے لوگ تھوڑے ہیں جو کلام الہی کی تہ تک پہنچتے اور ربانی پیش گوئیوں کے باریک بھیدوں کو سمجھتے ہیں۔میں نے دین میں کوئی کمی یا زیادتی نہیں کی۔بھائیو ! میرا دین وہی ہے جو تمہارا دین ہے اور وہی رسول کریم میرا مقتدا ہے جو تمہارا مقتدا ہے۔اور وہی قرآن شریف میرا ہادی اور میرا پیارا اور میری دستاویز ہے جس کا ماننا تم پر بھی فرض ہے۔ہاں یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ میں حضرت مسیح ابن مریم کو فوت شدہ اور داخل موتی یقین رکھتا ہوں اور جو آنے والے مسیح کے بارے میں پیشگوئی ہے وہ اپنے حق میں یقینی اور قطعی طور پر اعتقاد رکھتا ہوں لیکن اے بھائیو! یہ اعتقاد میں اپنی طرف سے اور اپنے خیال سے نہیں رکھتا۔بلکہ خداوند کریم جَلَّ شَانُهُ نے اپنے الہام و کلام کے ذریعہ سے مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مسیح ابن مریم کے نام پر آنے والا تو ہی ہے۔اور مجھ پر قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے وہ دلائل یقینیہ کھول دیئے ہیں جن سے یہ تمام یقین و قطع حضرت عیسی ابن مریم رسول اللہ کا فوت ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔اور مجھے اُس قادر مطلق نے بار بار اپنے کلام خاص سے مشرف و مخاطب جلد سوم