حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 231
حیات احمد ۲۳۱ جلد سوم اور خود پھر کر کتب فروشی اور تبلیغ اہل حدیث کا کام کرتے تھے وہ کسی کے محتاج نہ تھے بلکہ انہوں نے حج بھی کیا تھا۔اور سفر حج میں ایک آدمی کو غرق ہونے سے بھی بچایا تھا۔اس لئے کہ وہ بڑے تیراک تھے اور سمندر میں تیرنے کے شائق تھے۔بڑے طویل القامت اور شاہ زور انسان تھے۔موضع جمال پور جولو دھیانہ کے قریب ہے اور جس جگہ کے میاں کریم بخش کا ذکر سائیں گلاب شاہ کی شہادت کے متعلق آچکا ہے۔وہاں اکثر جاتے اس لئے کہ وہ سارا گاؤں اہلحدیث کا تھا اور مولوی محمد حسن صاحب کے ہم قوم اعوان ہی وہاں رہتے تھے۔خاکسار عرفانی کو بھی ایک مرتبہ حضرت شہزادہ حاجی عبدالمجید صاحب کے ساتھ وہاں جانے کا اتفاق ہوا تھا اس لئے کہ لودھانہ میں حضرت منشی احمد جان رضی اللہ کے متوسلین نے ایک انجمن انوار احمد یہ قائم کی تھی۔اور ایک ماہوار رسالہ اسی نام سے جاری کرنے کا اہتمام کیا تھا۔اور خاکسار عرفانی اس کا ایڈیٹر نامزد ہو چکا تھا۔اس انجمن کی امداد کے لئے ہم کو وہاں جانے کی ضرورت پیش آئی اور حضرت مولوی عبد القادر مدرس کے ہاں ہی قیام کر لیا تھا۔غرض ملا نظام الدین صاحب مولوی محمد حسن صاحب کے پاس رہتے تھے۔مرد مجاہد اور صاف گو تھا اور حق پرست تھا۔اسی مباحثہ کے اثر سے اور وقتاً فوقتاً حضرت اقدس کی مجالس میں آنے کا نتیجہ اس کا بھی بیعت کر لینے کا واقعہ ہوا۔وہ گویا لودھانہ کی اہل حدیث جماعت کے ایک نڈر رضا کار تھے اور محنت اور جسمانی کاموں کے لئے پیش پیش رہتے ان کی بیعت کا واقعہ دلچسپ ہے جس کو صاحبزادہ سراج الحق صاحب کے مؤكد بقسم بیان کی صورت میں لکھتا ہوں۔یہ واقعات جو میں نے حاجی ملا نظام الدین صاحب کے متعلق لکھے ہیں اپنی ذاتی واقفیت اور علم کی بناء پر لکھے ہیں۔مجھے اُن سے اور اُن کو مجھ سے محبت تھی انہوں نے لودھانہ کے مولوی صاحبان کے متعلق بہت سا تحریری مواد مجھے دیا تھا۔جو اب میں ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد نہیں کہہ سکتا کہاں ہے یہ مواد عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِین ( جو میں لکھنا چاہتا تھا) کے لئے تھا۔میں نے اس تمہیدی بیان کو اس لئے لکھا ہے کہ ان کی بیعت کے سلسلہ میں مولوی محمد حسین