حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 232
حیات احمد ۲۳۲ جلد سوم صاحب کا ان کی روٹی بند کرنے کا ذکر آتا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب نے ان کی حقارت کے لئے یہ جملہ اختیار کیا ہے۔اور اپنی لاعلمی کے طور پر۔اور حضرت نظام الدین صاحب نے اپنی طبعی ظرافت کا اظہار کیا۔والا وہ کسب حلال سے کماتے اور کھاتے تھے۔اور مولوی محمد حسن صاحب کے ایک دیانت دار کارندوں میں تھے میں نے گوارا نہ کیا کہ ایک مخلص مجاہد اور مبلغ اور حقیقی مومن جو گسپ حلال کا خوگر ہو اس کی نسبت کسی قسم کی غلط نہی رہے۔وہ احمدی ہوکر برابر سلسلہ کی خدمت میں نمایاں حصہ لیتے رہے اور باقاعدہ سالانہ جلسوں میں شرکت کرتے تھے مجھے یاد پڑتا ہے کہ احمدی ہونے کے بعد بھی غالباً ایک حج انہوں نے کیا تھا۔آئینہ کمالات اسلام میں ۱۸۹۲ء کے جلسہ میں شرکاء جلسہ کی جو فہرست آخر میں درج ہے اس کے نمبر ۶ پر یہ اندراج ہے۔میاں نظام الدین صاحب صحاف اس قدر توضیحی بیان کے بعد میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا بیان درج کرتا ہوں۔مولوی نظام الدین کا بحث کو آنا اور بیعت کر کے جانا دوسرے روز صبح کو آٹھ نو بجے مولوی نظام الدین اور مولوی محمدحسین صاحب اور دو تین اور شخص تھے۔مولوی محمد حسین صاحب کے مکان پر آپس میں گفتگو ہوئی۔مولوی نظام الدین نے کہا کہ حضرت مسیح کی زندگی پر بھی قرآن شریف میں کوئی آیت ہے۔مرزا تو آیت پر اڑ رہا ہے تو مولوی محمد حسین صاحب نے کہا میں آیتیں قرآن شریف میں موجود ہیں۔مولوی نظام الدین مرحوم و مغفور نے کہا تو میں اب مرزا صاحب کے پاس جاؤں اور گفتگو کروں انہوں نے کہا ہاں جاؤ۔پس مولوی نظام الدین مرحوم جلدی جلدی حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت مولوی عبدالکریم اور منشی غلام قادر صاحب فصیح اور فضل شاہ صاحب اور شاہزادہ عبدالمجید صاحب اور مولوی تاج محمد صاحب۔اور مولوی عبد القادر صاحب جمال پوری اور قاضی خواجہ علی صاحب مرحوم و مغفور اور عباس علی مرتد اور نور محمد ہانسوی مرحوم اور اللہ بندہ ہانسوی اور منشی ظفر احمد