حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 230 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 230

حیات احمد ۲۳۰ جلد سوم خلاف مرضي خدا پسند کروں۔حضرت اقدس کی صحبت کہاں میسر۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا جَزَاكَ الله یہ خیال بہت اچھا ہے۔اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے بندوں کے حال سے خوب واقف ہے۔اس میں کچھ حکمت الہی ہے۔یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسرا خط آیا کہ تم اپنی ملازمت پر حاضر ہو جاؤ۔اور جو کسی وجہ سے نہ آیا جائے تو ایک درخواست بھیج دو رخصت کی تاکہ رخصت مل جاوے۔اور میں کوشش کر کے رخصت دلوا دوں گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ریل کے نہ ملنے میں یہ حکمت الہی تھی۔اب رخصت کی درخواست بھیج دو۔مولوی صاحب نے حسب الارشاد ایک درخواست رخصت کی بھیج دی اور وہ منظور ہو کر آ گئی۔مولوی صاحب کو بہت روز حضرت کی خدمت میں رہنے اور فیض صحبت حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔میں نے بھی مولوی صاحب سے بہت سی حدیثیں پڑھیں جو مخالف آتا پہلے مولوی صاحب گفتگو کرتے۔ملا نظام الدین کی بیعت حضرت ملا نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہ ایک بے ریا اور نافع الناس انسان تھا۔وہ بڑے جسیم اور محنتی آدمی تھے ابتدائی کتابیں صرف نحو اور دینیات کی بھی پڑھی تھیں۔اور احادیث کا شغف بھی تھا۔اور وہ عرف عام میں مولوی سمجھے جاتے تھے بلکہ ملا جو مولوی سے بھی زیادہ با وقعت ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے بھی اُن کو مولوی صاحب لکھا ہے اور خود حضرت صاحب بھی اپنے خطاب میں ان کو ”مولوی صاحب ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔مگر شکل صورت سے وہ جاہل معلوم ہوتے تھے زندہ دلی ان کی فطرت میں تھی۔مخالف کے ساتھ گفتگو ایسے انداز میں کرتے کہ وہ سمجھتا کہ اس کو لاجواب کر دینا کیا مشکل ہے۔وہ فرقہ اہل حدیث سے تعلق رکھتے تھے اور لودھانہ میں چونکہ مولوی محمد حسن صاحب کا مکان اہلِ حدیث کا مرکز تھا۔اس لئے وہاں رہتے تھے